وَجَعَلُواْ لِلَّهِ شُرَكَآءَ ٱلۡجِنَّ وَخَلَقَهُمۡۖ وَخَرَقُواْ لَهُۥ بَنِينَ وَبَنَٰتِۭ بِغَيۡرِ عِلۡمٖۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يَصِفُونَ
But they have attributed to Allah partners - the jinn, while He has created them - and have fabricated for Him sons and daughters. Exalted is He and high above what they describe
Since ancient times it has been a weakness on the part of man to find some distinction or mysticism in a thing and then to consider that thing to be a partner of God and start worshipping it in order to seek its help or save himself from any harm it may do him. It was because of this mentality that many people started worshipping angels, stars and jinns, though the clear proof of their not being gods is that they do not possess the capacity to create. They have neither created themselves, nor are they capable of creating any other thing. They were themselves created by some other Being. So, the question is, whether the Creator will be accepted as God, or His creatures will usurp the position of His godhead. A tree receives the things it requires for its sustenance in perfect proportions. This is the condition of all things in the universe. When it is a fact that they receive things, (whatever be their nature) because a Giver gives them to them, then it naturally follows that the Giver will be the One who is aware of all things at all times. If He were not aware of them, how could He fulfil the needs of every single thing exactly according to its requirements? Now, for what purpose should God—the Possessor of such superlative attributes—take anybody as a partner in his godhead?
قدیم ترین زمانہ سے انسان کی یہ کمزوری رہی ہے کہ جس چیز میں بھی کوئی امتیاز یا کوئی پراسراريت دیکھتا ہے اس کو وہ خدا کا شریک سمجھ لیتا ہے۔ اور اس سے مدد لینے یا اس کی آفتوں سے بچنے کے لیے اس کو پوجنے لگتا ہے۔ اسی ذہن کے تحت بہت سے لوگوں نے فرشتے اور کواکب اور جنّات کو پوجنا شروع کردیا۔ حالاں کہ ان چیزوں کے خدا نہ ہونے کا کھلا ہوا ثبوت یہ ہے ان کے اندر ’’خلق‘‘ کی صفت نہیں۔ انھوں نے نہ اپنے آپ کو پیدا کیا اور نہ وہ کسی دوسری چیز کو پیدا کرنے پر قادر ہیں۔ ان کو خود کسی دوسری ہستی نے تخلیق کیا ہے۔ پھر جو خالق ہے وہ خدا ہوگا یا جو مخلوق ہے وہ خدا بن جائے گا۔
ایک درخت کو کمال درجہ موزونیت کے ساتھ وہ تمام چیزیں پہنچتی ہیں جو اس کی بقا کے لیے ضروری ہیں۔ اسی طرح کائنات کی تمام چیزوں کا حال ہے۔ جب یہ حقیقت ہے کہ ان چیزوں کو جو کچھ ملتاہے کسی دینے والے کے ديے سے ملتا ہے تو یقیناً دینے والا ہر جز وکل سے باخبر ہوگا۔ اگر وہ ان سے باخبر نہ ہو تو ہر چیز کی اس کی عین ضرورت کے مطابق کارسازی کس طرح کرے۔ اب جو خدا اتنی کامل صفات کا مالک ہو وہ آخر کس ضرورت کے ليے کسی کو اپنی خدائی میں شریک کرے گا۔
انسان خدا کو محسوس صورت میں دیکھنا چاہتا ہے۔ اور جب وہ اس کو محسوس صورت میں نظر نہیں آتا تو وہ دوسری محسوس چیزوں کو خدا فرض کرکے اپنی ظاہرپرستی کی تسکین کرلیتا ہے۔ مگر یہ خدا کی ہستی کا بہت کمتر اندازہ ہے۔ آخر جو خدا ایسا عظیم ہو کہ اتنی بڑی کائنات پیدا کرے اور انتہائی نظم کے ساتھ اس کو مسلسل چلاتا رہے، وہ اتنا معمولی کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک کمزور مخلوق اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اپنے ہاتھوں سے چھوئے۔ البتہ انسان دل کی راہ سے خدا کو پاتا ہے اور یقین کی آنکھ سے اس کو دیکھتا ہے۔ جو شخص بصیرت کی آنکھ سے دیکھ کر ماننے پر راضی ہو وہی خدا کو پائے گا۔ جو بصارت سے دیکھنے پر اصرار کرے وہ خدا کو پانے سے اسی طرح محروم رہے گا جس طرح وہ شخص پھول کی خوشبو کو جاننے سے محروم رہتا ہے جو ا س کو کیمیائی معیاروں پر پرکھ کر جاننا چاہے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →