ٱتَّبِعۡ مَآ أُوحِيَ إِلَيۡكَ مِن رَّبِّكَۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ وَأَعۡرِضۡ عَنِ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
Follow, [O Muhammad], what has been revealed to you from your Lord - there is no deity except Him - and turn away from those who associate others with Allah
There are some who have the urge to acquire knowledge and learn; who are in search of Truth. There are others who have acquired wealth and power and consider themselves successful to the point of feeling that there is nothing lacking in them which needs to be compensated for. When the call of Truth is given, it is mostly the former kind of people who accept it, unlike the latter who do not attach any significance to it. They never give it any serious thought, and therefore its importance does not become clear to them. The call of Truth provides answers for those who earnestly go in quest of the truth, and gives those who are not so inclined, a logical conclusion to their arguments. With regard to the former, the aim is to enable them to accept the truth; as for the others, it is meant to make them concede that at least the divine message had been conveyed to them in full.
ایک شخص وہ ہے جس کے اندر طلب کی نفسیات ہو، جو سچائی کی تلاش میں رہتا ہو۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو دولت یا اقتدار کا کوئی حصہ پاکر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ پائے ہوئے لوگ ہیں۔ ان کے اندر کوئی کمی نہیں ہے جو کوئی شخص آکر پوری کرے۔ حق کی دعوت جب اٹھتی ہے تو اس کو قبول کرنے والے زیادہ تر پہلی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو دوسری قسم کے لوگ ہیں وہ اس کو کوئی قابل لحاظ چیز نہیں سمجھتے۔ وہ کبھی سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور نہیں کرتے۔ اس لیے اس کی اہمیت بھی ان پر واضح نہیں ہوتی۔ ایسے حالات میں حق کی دعوت کا مقصد دو ہوتا ہے۔ جو سچے طالب ہیں ان کی طلب کا جواب فراہم کرنا۔ اور جو لوگ طالب نہیں ہیں ان پر حجت قائم کرنا۔ پہلی قسم کے لوگوں کے لیے دعوت کا نشانہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے ماننے والے بن جائیں۔ اور دوسری قسم کے لوگوں کے لیے یہ کہ وہ کہہ اٹھیں کہ ’’تم نے بتادیا، تم نے بات ہم تک پہنچادی‘‘۔
جو لوگ دعوت کا انکار کرتے ہیں وہ اپنے انکار کو برحق ثابت کرنے کے لیے طرح طرح کی باتیں نکالتے ہیں۔ ایسے موقع پر داعی کے دل میں یہ خیال آنے لگتا ہے کہ وہ دعوت کے انداز میں ایسی تبدیلی کردے جس سے وہ مدعو کے لیے قابل قبول بن جائے۔ مگر اس قسم کا انحراف درست نہیں۔ داعی کو ہمیشہ اسی اسلوب پر قائم رہنا چاہیے جو براہِ راست خدا کی طرف سے تلقین کیاگیا ہے۔ کیوں کہ اصل مقصد انسان کو خدا سے جوڑنا ہے، نہ کہ کسی نہ کسی طرح لوگوں کو اپنے حلقہ میں شامل کرنا۔ دوسری طرف یہ بات بھی غلط ہے کہ مدعو کے رویہ سے مشتعل ہو کر ایسی باتیں کی جائیں کہ اس کی گمراہی جاہلانہ بد کلامي تک جاپہنچے۔
آدمی جن خاص روایات میں پیدا ہوتاہے اور جن افکار سے وہ مانوس ہوجاتا ہے، ان کے حق میں اس کے اندر ایک طرح کی عصبیت پیدا ہوجاتی ہے۔اس کے مطابق اس کا ایک فکری ڈھانچہ بن جاتا ہے جس کے تحت وہ سوچتا ہے۔ یہی فکری ڈھانچہ حق کو قبول کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک آدمی اس فکری ڈھانچہ کو نہ توڑے اس کے ذہن میں وہ دروازہ نہیں کھلتا جس کے ذریعہ حق کی آواز اس کے اندر داخل ہو۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →