قُلۡ سِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ ثُمَّ ٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُكَذِّبِينَ
Say, "Travel through the land; then observe how was the end of the deniers
In this world communicating the Word of God is a task of some complexity. This is because God has ordained that the Truth be veiled in doubt, so that man may find reasons for rejecting it alongside arguments in support of its acceptance. The real test of man is that he should be able to tear down the veil of doubt and raise himself to the position of certainty. He should eschew doubt in all its guises and take a firm hold of the divine Truth. Believing without seeing is the real test of man. When reality is made visible, its acceptance has no value. Man denies the obvious truth. On obtaining power, he degrades others. One man makes another the victim of his tyranny. Why is this so? Does man wield absolute power in this world? Is there nobody here to stay his hand? Is there a combination of opposites in God’s regime, given that He seems to have filled man’s world with oppression and injustice and the rest of the world with mercy and meaningfulness? No, it is not so. God, who is the Lord of Heaven and earth, is also the Lord of that creature who toils during the day and rests at night. Just as God’s grace is given unstintingly to the universe, so also is it given to human beings. The difference is that for the rest of the world, His grace is fully in evidence right from the first day, whereas for the world of human beings, His grace will be fully shown on the Day of Judgement.
دنیا میں آدمی کی گمراہی کا سبب یہ ہے کہ یہاں اس کو حق کے انکار کی پوری آزادی ملی ہوئی ہے۔ حتی کہ اس کو یہ موقع بھی حاصل ہے کہ وہ اپنے افکار کی خوب صورت توجیہہ کرسکے۔ امتحان کی اس دنیا میں اتنی وسعت ہے کہ یہاں الفاظ ہر اس مفہوم میں ڈھل جاتے ہیں جس میںانسان ان کو ڈھالنا چاہے۔ داعی اگر ایک عام انسان کے روپ میں ظاہر ہو تو آدمی اس کو یہ کہہ کر نظر انداز کرسکتا ہے کہ یہ ایک شخص کا قیادتی حوصلہ ہے، نہ کہ کوئی حق و صداقت کا معاملہ۔ اسی طرح اگر آسمان سے کوئی لکھی لکھائی کتاب اتر آئے تو اس کو رد کرنے کے لیے بھی وہ یہ الفاظ پا لے گا کہ یہ تو ایک جادو ہے۔
مکہ کے لوگ کہتے تھے کہ پیغمبراگر خدا کی طرف سے اس کی پیغام بری کے لیے مقرر کیا گیا ہے تو اس کے ساتھ خدا کے فرشتے کیوں نہیں جو اس کی تصدیق کریں۔ اس قسم کی باتیں آدمی اس لیے کہتا ہے کہ وہ دعوت کے معاملہ میں سنجیدہ نہیںہوتا۔ اگر وہ سنجیدہ ہو تو اس کو فوراً معلوم ہوجائے گا کہ یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ امتحان اسی وقت ہوسکتا ہے جب کہ غیبی حقیقتوں پر پردہ پڑاہوا ہو۔ اگر غیبی حقیقتیں کھل جائیں اور خدا اور اس کے فرشتے سامنے آجائیں تو پھر پیغمبري اور دعوت رسانی کا کوئی سوال ہی نہ ہوگا۔ کیوں کہ اس کے بعد کسی کو یہ جرأت ہی نہ ہوگی کہ وہ حقائق کا انکار کرسکے — موجودہ دنیا میں لوگ اپنی ظاہر پرستی کی وجہ سے خدا کے داعی کو اس کی باتوںکی عظمت میں نہیں دیکھ پاتے، وہ اس کا اندازہ صرف اس کے ظاہری پہلو کے اعتبار سے کرتے ہیں اور ظاہری اعتبار سے غیر اہم پاکر اس کا انکار کردیتے ہیں۔ حتی کہ وہ اس کا مذاق اڑانے لگتے ہیں۔ خدا کے داعی كا معاملہ ان کو ایسا معلوم ہوتاہے جیسے ایک معمولی آدمی اچانک اٹھ کر بہت بڑی حیثیت کا دعویٰ کرنے لگے۔
اس دنیا میں دعوت رسانی کا سارا معاملہ خدا کے قانون التباس کے تحت ہوتا ہے۔ یہاں حق کے اوپر ایک شبہ کا پہلو رکھا گیا ہے تاکہ آدمی اقرار کے دلائل کے ساتھ کچھ انکار کے وجوہ بھی پاسکتا ہو۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اس شبہ کے پردے کو پھاڑ کر اپنے کو یقین کے مقام پر پہنچائے۔ وہ شبہ کے پہلوؤں کو حذف کرکے یقین کے پہلوؤں کو لے لے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ دیکھے بغیر مانے۔ جب حقیقت کو دکھا دیا جائے تو پھر ماننے کی کوئی قیمت نہیں۔