وَكَذَٰلِكَ جَعَلۡنَا فِي كُلِّ قَرۡيَةٍ أَكَٰبِرَ مُجۡرِمِيهَا لِيَمۡكُرُواْ فِيهَاۖ وَمَا يَمۡكُرُونَ إِلَّا بِأَنفُسِهِمۡ وَمَا يَشۡعُرُونَ
And thus We have placed within every city the greatest of its criminals to conspire therein. But they conspire not except against themselves, and they perceive [it] not
In the eyes of God that person has life who accepts the light of guidance which appears before him and makes it the illumination of his path. Conversely, that person is lifeless who remains deprived of the light of guidance and roams about groping in the darkness of falsehood. The lifeless person is one who is so caught up in the net of superstitions and prejudice that true, straight facts do not fall within the scope of his understanding. He is so unaware of the true nature of things that he is unable to distinguish between meaningless argument and real discourse. He is so engrossed in self-aggrandisement that it is not possible for him to accept the Truth coming from any source other than that of tradition. Customary and traditional ideas so dominate his mind that he is unable to assess things by any other standard. Due to these weaknesses, he is left groping in the dark. Though apparently alive, he becomes virtually a dead person. In direct contrast to this, one who opens his heart to guidance becomes free of all psychological knots; it takes him no time at all to recognise the Truth. The veils of words fail to hide the face of reality from his eyes. The problems of taste and habit do not attain such a position in his life as to come between the Truth and himself. Truth becomes a bright reality for him; his gaze does not falter looking at it and he does not remain indolent once he has discovered it. He himself treads the path of light and endeavours to make others walk in that light.
اللہ کی نظر میں وہ شخص زندہ ہے جس کے سامنے ہدایت کی روشنی آئی اور اس نے اس کو اپنے راستہ کی روشنی بنالیا۔ اس کے مقابلہ میں مردہ وہ ہے جو ہدایت کی روشنی سے محروم ہو کر باطل کے اندھیروں میں بھٹک رہا ہو۔
مُردہ آدمی اوہام وتعصبات کے جال میں اتنا پھنسا ہوا ہوتا ہے کہ سیدھے اور سچے حقائق اس کے ذہن کی گرفت میں نہیں آتے۔ وہ اشیاء کی ماہیت سے اتنا بے خبر ہوتا ہے کہ لفظی بحث اور حقیقی کلام میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی بڑائی کے تصور میں اتنا ڈوبا ہوا ہوتا ہے کہ کسی دوسرے کی طرف سے آئی ہوئی سچائی کا اعتراف کرنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے ذہن پر رواجی خیالات کا اتنا غلبہ ہوتا ہے کہ ان سے ہٹ کر کسی اور معیار پر وہ چیزوں کو جانچ نہیں پاتا۔ اپنی ان کمزوریوں کی بنا پر وہ اندھیرے میں بھٹکتا رہتا ہے، بظاہر زندہ ہوتے ہوئے بھی وہ ایک مُردہ انسان بن جاتاہے۔
اس کے برعکس جو شخص ہدایت کے لیے اپنا سینہ کھول دیتا ہے وہ ہر قسم کی نفسیاتی گرہوں سے آزاد ہوجاتا ہے۔ سچائی کو پہچاننے میں اسے ذرا بھی دیر نہیں لگتی۔ الفاظ کے پردے کبھی اس کے لیے حقیقت کا چہرہ دیکھنے میں رکاوٹ نہیں بنتے۔ ذوق اور عادت کے مسائل اس کی زندگی میں کبھی یہ مقام حاصل نهيں کرتے کہ اس کے اور حق کے درمیان حائل ہوجائیں۔ سچائی اس کے لیے ایک ایسی روشن حقیقت بن جاتی ہے جس كو دیکھنے میں اس کی نظر کبھی نہ چوکے اور جس کو پانے کے لیے وہ کبھی سست ثابت نہ ہو۔ وہ خود بھی حق کی روشنی میں چلتا ہے اور دوسروں کو بھی اس میں چلانے کی کوشش کرتا ہے۔
وہ لوگ جو خود ساختہ چیزوں کو خدا کا مذہب بتا کر عوام کا مرجع بنے ہوئے ہوتے ہیں وہ ہر ایسی آواز کے دشمن بن جاتے ہیں جو لوگوں کو سچے دین کی طرف پکارے۔ ایسی ہر آواز ان کو اپنے خلاف بے اعتمادی کی تحریک دکھائی دیتی ہے۔یہ وقت کے بڑے لوگ حق کی دعوت میں ایسے شوشے نکالتے ہیں جس سے وہ عوام کو اس سے متاثر ہونے سے روک سکیں۔ وہ حق کے دلائل کو غلط رخ دے کر عوام کو شبہات میں مبتلا کرتے ہیں۔ حتی کہ بے بنیاد باتوں کے ذریعے داعی کی ذات کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر اس قسم کی کوششیں صرف ان کے جرم کو بڑھاتی ہیں، وہ داعی اور دعوت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں — حق پرست وہ ہے جو حق کو اس وقت دیکھ لے جب کہ اس کے ساتھ دنیوی عظمتیں شامل نہ ہوئی ہوں۔ دنیوی عظمت والے حق کو ماننا دراصل دنیوی عظمتوں کو ماننا ہے نہ کہ خدا کی طرف سے آئے ہوئے حق کو۔