قُل لَّآ أَجِدُ فِي مَآ أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٖ يَطۡعَمُهُۥٓ إِلَّآ أَن يَكُونَ مَيۡتَةً أَوۡ دَمٗا مَّسۡفُوحًا أَوۡ لَحۡمَ خِنزِيرٖ فَإِنَّهُۥ رِجۡسٌ أَوۡ فِسۡقًا أُهِلَّ لِغَيۡرِ ٱللَّهِ بِهِۦۚ فَمَنِ ٱضۡطُرَّ غَيۡرَ بَاغٖ وَلَا عَادٖ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
Say, "I do not find within that which was revealed to me [anything] forbidden to one who would eat it unless it be a dead animal or blood spilled out or the flesh of swine - for indeed, it is impure - or it be [that slaughtered in] disobedience, dedicated to other than Allah. But whoever is forced [by necessity], neither desiring [it] nor transgressing [its limit], then indeed, your Lord is Forgiving and Merciful
Among the animals reared by the Arabs for the sake of their meat and milk, etc., four kinds were very well known—sheep, goats, camels and cows. With reference to them, they had framed different types of prohibitory regulations. But they had no authority to back these up save their polytheistic customs. The banning of the meat of the sheep, goat, camel or cow, whether male or female, has no rationality in it. All the meat on them is the best food for man. They do not even have any dirty habits which could make them undesirable for human consumption. Even in the teachings coming down from heaven there is no mention of their being forbidden. Then, why does it happen that different types of restrictive regulations gain currency? The reason for this is satanic inducements.
عربوں میں گوشت اور دودھ وغیرہ کے ليے جو جانور پائے جاتے تھے ان میں سے چار زیادہ معروف تھے۔ بھیڑ بکری اور اونٹ گائے۔ ان کے بارے میں انھوں نے طرح طرح کے تحریمی قاعدے بناليے تھے۔ مگر ان تحریمی قاعدوں کے پیچھے اپنے مشرکانہ رواجوں کے سوا کوئی دلیل ان کے پاس نہ تھی۔ بھیڑ اور بکری اور اونٹ اور گائے، خواہ نر ہوں یا مادہ، عقلی طورپر کوئی سبب حرمت ان کے اندر موجود نہیں ہے، ان کا تمام کا تمام گوشت انسان کی بہترین غذا ہے۔ ان میں کوئی ایسی ناپاک عادت بھی نہیں جو ان کے بارے میں انسانی طبیعت میں کراہت پیدا کرتی ہو۔ آسمان سے اترے ہوئے علم میں بھی ان کی حرمت کا ذکر نہیں۔
پھر کیوں ایسا ہوتا ہے کہ ان حیوانات کے بارے میں لوگوں کے اندر طرح طرح کے تحریمی قاعدے بن جاتے ہیں۔ اس کی وجہ شیطانی ترغیبات ہیں۔ انسان کے اندر فطری طورپر خدا کا شعور اور حر ام وحلال کا احساس موجود ہے۔ آدمی اپنے اندرونی تقاضے کے تحت کسی ہستی کو اپنا خدا بنانا چاہتا ہے اور چیزوں میں جائز ناجائز کا فرق کرنا چاہتا ہے۔ شیطان اس حقیقت کو خوب جانتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ انسان کو اگر سادہ حالات میں عمل کرنے کا موقع ملا تو وہ فطرت کے صحیح راستہ کو پکڑ لے گا۔ اس ليے وہ فطرتِ انسانی کو کند کرنے کے لیے طرح طرح کے غلط رواج قائم کرتاہے۔ وہ خدا کے نام پر کچھ فرضی خدا گھڑتا ہے۔ وہ حرام وحلال کے نام پر کچھ بے بنیاد محرمات وضع کرتاہے۔ اس طرح شیطان یہ کوشش کرتا ہے کہ آدمی انھیں فرضي چیزوں میں الجھ کر رہ جائے اور اصلی سچائی تک نہ پہنچے۔ وہ سیدھے راستے سے بھٹک چکا ہو۔ مگر بظاہر اپنے کو چلتا ہوا دیکھ کر یہ سمجھے کہ میں ’’راستہ‘‘ پر ہوں۔ حالاں کہ وہ ایک ٹیڑھی لکیر ہو، نہ کہ سیدھا راستہ۔
جو لوگ اس طرح شیطانی بہکاوے کا شکار ہوں وہ خدا کی نظر میں ظالم ہیں۔ ان کو خدا نے سمجھ دی تھی جس سے وہ حق وباطل میں تمیز کرسکتے تھے۔ مگر ان کے تعصبات ان کے لیے پردہ بن گئے۔ سمجھنے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود وه سمجھنے سے دور رہے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →