سَيَقُولُ ٱلَّذِينَ أَشۡرَكُواْ لَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَآ أَشۡرَكۡنَا وَلَآ ءَابَآؤُنَا وَلَا حَرَّمۡنَا مِن شَيۡءٖۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ حَتَّىٰ ذَاقُواْ بَأۡسَنَاۗ قُلۡ هَلۡ عِندَكُم مِّنۡ عِلۡمٖ فَتُخۡرِجُوهُ لَنَآۖ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا تَخۡرُصُونَ
Those who associated with Allah will say, "If Allah had willed, we would not have associated [anything] and neither would our fathers, nor would we have prohibited anything." Likewise did those before deny until they tasted Our punishment. Say, "Do you have any knowledge that you can produce for us? You follow not except assumption, and you are not but falsifying
The unadulterated missionary call for Truth always stands out as something rather strange. On the one hand, there is the customary religion which enjoys prominence in all social institutions. Centuries of traditions are behind it to lend it weight. On the other hand, there is the call for Truth, which has no time-honoured conventions in its favour. It is difficult, therefore, for people to understand that customary religion, which has such an elevated status and great popularity, will not be to God’s liking. The common presumption is that it has been possible for the customary religion to flourish to this extent because it suited God’s will and pleasure: had it not been so, it would not have spread and endured to this extent. They raise the question of whether God’s favoured religion will be one already enjoying a high status everywhere in this world of God or one which has no standing whatsoever.
حق کی بے آمیز دعوت ہمیشہ اپنے ماحول میں اجنبی دعوت ہوتی ہے۔ ایک طرف مروجہ دین ہوتاہے جس کو تمام اجتماعی اداروں میں غلبہ کا مقام حاصل ہوتا ہے۔ صدیوں کی روایات اس کو باوزن بنانے کے لیے اس کی پشت پر موجود ہوتی ہیں۔ دوسری طرف حق کی دعوت ہوتی جو ان تمام اضافی خصوصیات سے خالی ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں لوگوں کے لیے سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے کہ جس دین کو اتنا درجہ اور اتنی مقبولیت حاصل ہو وہ دین خدا کی پسند کے مطابق نہ ہوگا۔ لوگ فرض کرلیتے ہیں کہ مروجہ دین کا اتنا پھیلاؤ اسی ليے ممکن ہوسکا کہ خدا کی مرضی اس کے شامل حال تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کو یہ پھیلاؤ کبھی حاصل نہ ہوتا۔ وہ کہتے ہیں کہ جس دین کو خدا کی دنیا میں ہر طرف بلند مقام حاصل ہووہ خدا کا پسندیدہ دین ہوگا یا وہ دین جس کو خدا کی دنیا میں کہیں کوئی مقام حاصل نہیں۔
مگر حق وباطل کا فیصلہ حقیقی دلائل پر ہوتا ہے، نہ کہ اس قسم کے قیاسات پر۔ خدا نے اس دنیا کو امتحان گاہ بنایا ہے۔یہاں آدمی کو یہ موقع ہے کہ وہ جس چیز کو چاہے اختیار کرے اور جس چیز کو چاہے اختیار نہ کرے۔ یہ معاملہ تمام تر آدمی کے اپنے اوپر منحصر ہے۔ ایسی حالت میں کسی چیز کا رواج عام اس کے برحق ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔ کوئی چیز برحق ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ دلائل کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ رواجی عمل کی بنیاد پر۔
دنیا کو اللہ نے امتحان گاہ بنایا۔ انسان پر اپنی مرضی جبراً مسلط کرنے کے بجائے یہ طریقہ اختیار کیا کہ انسان کو صحیح اور غلط کا علم دیا اور یہ معاملہ انسان کے اوپر چھوڑدیا کہ وہ صحیح کو لیتاہے یا غلط کو۔ اس کامطلب یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں دلیل(حجت) خدا کی نمائندہ ہے۔ آدمی جب ایک سچی دلیل کے آگے جھکتاہے تو وہ خدا کے آگے جھکتاہے۔اور جب وہ ایک سچی دلیل کو ماننے سے انکار کرتاہے ہو تو وہ خدا کو ماننے سے انکار کرتاہے۔
جب آدمی دلیل کے آگے نہیں جھکتا تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی خواہش سے اوپر اٹھ نہیں پاتا۔ وہ باطل کو حق کہنے کے ليے کھڑا ہوجاتاہے تاکہ اپنے عمل کو جائز ثابت کرسکے۔ اس کی ڈھٹائی اس کو یہاںتک لے جاتی ہے کہ وہ خدا کی نشانیوں کو نظر انداز کردے۔ وہ اس بات سے بے پروا ہوجاتاہے کہ خدا اس کو بالآخر پکڑنے والا ہے۔ وہ دوسری دوسری چیزوں کو وہ اہمیت دیتاہے جو اہمیت صرف خدا کو دینا چاہيے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →