وَلَا تَقۡرَبُواْ مَالَ ٱلۡيَتِيمِ إِلَّا بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ حَتَّىٰ يَبۡلُغَ أَشُدَّهُۥۚ وَأَوۡفُواْ ٱلۡكَيۡلَ وَٱلۡمِيزَانَ بِٱلۡقِسۡطِۖ لَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَاۖ وَإِذَا قُلۡتُمۡ فَٱعۡدِلُواْ وَلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبَىٰۖ وَبِعَهۡدِ ٱللَّهِ أَوۡفُواْۚ ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ
And do not approach the orphan's property except in a way that is best until he reaches maturity. And give full measure and weight in justice. We do not charge any soul except [with that within] its capacity. And when you testify, be just, even if [it concerns] a near relative. And the covenant of Allah fulfill. This has He instructed you that you may remember
With the advent of the explosion of Doomsday, all hidden realities will reveal themselves to the people. At that time, man will be compelled to accept God and act only at His behest, but acceptance at that time will have no value. Only that acceptance is real acceptance which takes place at the stage of the Almighty still being unseen. True faith lies in accepting, without seeing, that which one is compelled to accept after seeing. One who accepts after seeing has, as it were, not accepted at all.
یتیم کسی سماج کا سب سے کمزور فرد ہوتاہے۔ وہ تمام اضافی اسباب اس کی ذات میں حذف ہوجاتے ہیں جو عام طورپر کسی کے ساتھ اچھے سلوک کا محرک بنتے ہیں۔ ’’یتیم‘‘ کے ساتھ ذمہ داری کا معاملہ وہی شخص کرسکتاہے جو خالص اصولی بنیاد پر باکردار بنا ہو، نہ کہ فائدہ اور مصلحت کی بنیاد پر۔ یتیم کسی سماج میں حسن سلوک کی آخری علامت ہوتا ہے۔ جوشخص یتیم کے ساتھ خیر خواہانہ سلوک کرے وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ بدرجہ اولیٰ خیر خواہانہ سلوک کرے گا۔
کائنات کی ہر چیز دوسری چیز سے اس طرح وابستہ ہے کہ ہر چیز دوسرے کو وہی دیتی ہے جو اس کو دینا چاہيے اور دوسرے سے وہی چیز لیتی ہے جو اس کو لینا چاہیے۔ یہی اصول انسان کو اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ انسان کوچاہیے کہ جب وہ دوسرے انسان کے لیے ناپے تو ٹھیک ناپے اور جب تولے تو ٹھیک تولے۔ ایسا نہ کرے کہ اپنے ليے ایک پیمانہ استعمال کرے ا ور غیر کے ليے دوسرا پیمانہ۔
زندگی میں بار بار ایسے مواقع آتے ہیں کہ آدمی کو کسی کے خلاف اظہار رائے کرنا ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر خدا کا پسندیدہ طریقہ یہ ہے کہ آدمی وہی بات کہے جو انصاف کے معیار پر پوری اترنے والی ہو۔ کوئی اپنا ہو یا غیر ہو۔ اس سے دوستی کے تعلقات ہوں یا دشمنی کے تعلقات، ایسا شخص ہو جس سے کوئی فائدہ وابستہ ہے یا ایسا شخص ہو جس سے کوئی فائدہ وابستہ نہیں، ان تمام چیزوں کی پروا كيے بغیر آدمی وہی کہے جو فی الواقع درست اور حق ہے۔
ہر آدمی فطرت کے عہد میں بندھا ہوا ہے۔ کوئی عہد لکھا ہوا ہوتا ہے اور کوئی عہد وہ ہوتا ہے جو لفظوں میں لکھا ہوا نہیں ہوتا مگرآدمی کا ایمان، اس کی انسانیت اور اس کی شرافت کا تقاضا ہوتا ہے کہ اس موقع پر ایسا کیا جائے۔ دونوں قسم کے عہدوں کو پورا کرنا ہر مومن ومسلم کا فریضہ ہے— یہ تمام باتیں انتہائی واضح ہیں۔ آسمانی وحی اور آدمی کی عقل ان کے برحق ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ مگر ان سے وہی شخص نصیحت پکڑے گا، جو خود بھی نصیحت پکڑنا چاہتا ہو۔
یہ احکام (الانعام،
6:151-153
)شریعت الٰہی کے بنیادی احکام ہيں۔ ان پر ان کے سیدھے مفہوم کے اعتبار سے عمل کرنا خدا کی سیدھی شاہراہ پر چلنا ہے۔ اور اگر تاویل اور موشگافیوں کے ذریعہ ان میں شاخیں نکالی جائیں اور سارا زور ان شاخوں پر دیا جانے لگے تو یہ اِدھر اُدھر کے متفرق راستوں میں بھٹکنا ہے جو کبھی آدمی کو خدا تک نہیں پہنچاتا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →