وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذۡ وُقِفُواْ عَلَىٰ رَبِّهِمۡۚ قَالَ أَلَيۡسَ هَٰذَا بِٱلۡحَقِّۚ قَالُواْ بَلَىٰ وَرَبِّنَاۚ قَالَ فَذُوقُواْ ٱلۡعَذَابَ بِمَا كُنتُمۡ تَكۡفُرُونَ
If you could but see when they will be made to stand before their Lord. He will say, "Is this not the truth?" They will say, "Yes, by our Lord." He will [then] say, "So taste the punishment because you used to disbelieve
Whenever a man denies the Truth or follows the desires of his self, it is because he does not live his life in this world on the understanding that he will be resurrected after death and made to stand before the Lord of the universe to give an account of himself in everyday life. Man has been given a certain power which he uses unhesitatingly. He has the material prop of wealth, and friends and companions on whom he relies. He has been given a brain, which he uses to think out arrogant strategies and find clever pretexts for his transgressions. The success of his initiatives deceives him; he starts placing false reliance on things other than God, and imagines that the position he enjoys today is of a perennial nature. He forgets that whatever he has been given in this world is only by way of trial and is not a matter of entitlement. This type of life is thoroughly sinful, whether led in open denial of the Hereafter or without actually uttering the words of denial. On what basis does man rush towards worldly things—thinking them his own? Man has not paid any fee for the sunlight in which he walks or for the air he breathes. No part or ingredient of the earth from which he derives the wherewithal to live has been made by him. None of the favourite things towards which he rushes can he call his own. When these things have not been created by man, should not the Lord of all these things have any right over man? The fact is that man’s very utilisation of the present world makes it only logical that he should be made to stand before his Lord on the day of reckoning.
جب بھی کوئی آدمی حق کا انکار کرتاہے یا نفس کی خواہشات پر چلتاہے تو ایسا اس بنا پر ہوتاہے کہ وہ یہ سمجھ کر دنیا میں نہیں رہتا کہ مرنے کے بعد وہ دوبارہ اٹھایا جائے گا اور مالک کائنات کے سامنے حساب کتاب کے لیے کھڑا کیاجائے گا۔ دنیا میں آدمی کو اختیار ملا ہوا ہے جس کو وہ بے روک ٹوک استعمال کرتا ہے۔ اس کو مال و دولت اور دوست اور ساتھی حاصل ہیں، جن پروہ بھروسہ کرسکتا ہے۔ اس کو عقل ملی ہوئی ہے جس سے وہ سرکشی کی باتیں سوچے اور اپنے ظالمانہ عمل کی خوبصورت توجیہہ کرسکے۔ یہ چیزیں اس کو دھوکے میں ڈالتی ہیں۔ وہ خدا کے سوا دوسری چیزوں پر جھوٹا بھروسہ کرلیتاہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ جیسا میں آج ہوں ویسا ہی میں ہمیشہ رہوں گا۔ وہ بھول جاتا ہے کہ دنیا میں اس کو جو کچھ ملا ہوا ہے وہ بطور امتحان ہے، نہ کہ بطور استحقاق۔
اس قسم کی زندگی خواہ وہ آخرت کا انکار کرکے ہو یا انکار کے الفاظ بولے بغیر ہو، آدمی کا سب سے بڑا جرم ہے۔ جن دنیوی چیزوں کو آدمی اپنا سب کچھ سمجھ کر ان پر ٹوٹتا ہے۔ آخر کس حق کی بنا پر وہ ایساکر رہا ہے۔ آدمی جس روشنی میں چلتاہے اور جس ہوا میں سانس لیتاہے اس کا کوئی معاوضہ اس نے ادا نہیں کیا ہے۔ وہ جس زمین سے اپنا رزق نکالتا ہے اس کاکوئی بھي جزء اس کا بنایا ہوا نہیں ہے۔ وہ تمام پسندیدہ چیزیں جن کو حاصل کرنے کے لیے آدمی دوڑتاہے ان میں سے کوئی چیز نہیں جو اس کی اپنی ہو۔ جب یہ چیزیں انسان کی پیداکی ہوئی نہیں ہیں تو جو ان تمام چیزوں کا مالک ہے کیا، اس کا آدمی کے اوپر کوئی حق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی کاموجودہ دنیا کو استعمال کرنا ہی لازم کردیتاہے کہ وہ ایک روز اس کے مالک کے سامنے حساب کے لیے کھڑا کیا جائے۔
جو لوگ دنیا کو خدا کی دنیا سمجھ کر زندگی گزاریں ان کی زندگی تقویٰ کی زندگی ہوتی ہے۔ اور جو لوگ اس کو خدا کی دنیا نہ سمجھیں ان کی زندگی لہو ولعب کی زندگی ہوتی ہے۔ لہو لعب کی زندگی چندروز کا تماشا ہے جو مرنے کے ساتھ ختم ہوجائے گا۔ اور تقویٰ کی زندگی خدا کے ابدی اصولوں پر قائم ہے اس لیے وہ ابدی طور پر آدمی کا سہارا بنے گی۔ موجودہ دنیا میں آدمی ان حقیقتوں کا انکار کرتاہے مگر امتحان کی آزادی ختم ہوتے ہی وہ اس کا اقرار کرنے پر مجبور ہوگا اگر چہ اس وقت کا اقرار اس کے کچھ كام نہ آئے گا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →