وَأَنذِرۡ بِهِ ٱلَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحۡشَرُوٓاْ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ لَيۡسَ لَهُم مِّن دُونِهِۦ وَلِيّٞ وَلَا شَفِيعٞ لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُونَ
And warn by the Qur'an those who fear that they will be gathered before their Lord - for them besides Him will be no protector and no intercessor - that they might become righteous
Admonition is effective only for those who live in fear of God. Only one who is concerned about possible danger can be warned about imminent calamity. On the contrary, those who live reckless lives are never serious about admonition, and that is why they are never prepared to heed advice. Recklessness or fearlessness arises from two factors—one is worship of the world and the other is worship of ancestors. Those who are lost in worldly things or are satisfied with worldly success do not even remember that one day, when they die, they shall have to appear before their Creator and Lord, and so do not consider the Hereafter as anything significant. Remembrance of the Hereafter does not, therefore, find a place in their thinking. Their temperament is such that they ignore such things, considering them unimportant. Another category of individuals includes those who consider recommendation the key to Paradise. They presume that the ‘great ones’ for whom they have developed an attachment will be their supporters and commenders in the Hereafter and that no matter how unfavourable the conditions, that will be sufficient for their salvation. Such people live in the fond hope that since they have grasped the hands of some ‘holy’ personalities and since they are with the group which is ostensibly loved and favoured by God, no affair of theirs can go awry. It is this mentality which makes them unafraid of the Hereafter. They are not ready to give serious consideration to anything which may throw doubt on their position in the life to come.
نصیحت ہمیشہ ان لوگوں کے لیے کار گر ہوتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات میں جیتے ہوں۔ جس کو کسی چیز کا کھٹکا لگا ہوا ہو اسی کو خطرے سے آگاہ کیا جاسکتاہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں جی رہے ہوں وہ کبھی نصیحت کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوتے، اس لیے وہ نصیحت کو قبول کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔
بے خوفی کی نفسیات پیدا ہونے کا سبب عام طورپر دو چیزیں ہوتی ہیں۔ ایک، دنیا پرستی، دوسري اکابر پرستی۔ جو لوگ دنیا کی چیزوں میں گم ہوں یادنیا کی کوئی کامیابی پاکر اس پر مطمئن ہوگئے ہوں، حتی کہ انھیں یہ بھی یاد نہ رہتا ہو کہ ایک روز ان کو مرکر خالق ومالک کے سامنے حاضر ہونا ہے، ایسے لوگ آخرت کو کوئی قابل لحاظ چیزنہیں سمجھتے۔ اس لیے آخرت کی یاد دہانی ان کے ذہن میںاپنی جگہ حاصل نہیں کرتی۔ ان کامزاج ایسی باتوں کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیتا ہے۔
دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو آخرت کے معاملہ کو سفارش کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں۔ وہ فرض کرلیتے ہیںکہ جن بڑوں کے ساتھ انھوںنے اپنے کو وابستہ کر رکھا ہے وہ آخرت میں ان کے مدد گار اور سفارشی بن جائیں گے اور کسی بھی ناموافق صورتِ حال میں ان کی طرف سے کافی ثابت ہوں گے۔ ایسے لوگ اس بھروسہ پر جی رہے ہوتے ہیں کہ انھوںنے مقدس ہستیوں کا دامن تھام رکھا ہے، وہ خدا کے محبوب ومقبول گروہ کے ساتھ شامل ہیں اس لیے اب ان کا کوئی معاملہ بگڑنے والا نہیں ہے۔ یہ نفسیات ان کو آخرت کے بارے میں نڈر بنادیتی ہے، وہ کسی ایسی بات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کہ لیے تیار نہیں ہوتے جو آخرت میں ان کی حیثیت کو مشتبہ کرنے والی هو۔
جو لوگ مصلحتوں کی رعایت کرکے دولت ومقبولیت حاصل کیے ہوئے ہوں وہ کبھی حق کی بے آمیز دعوت کا ساتھ نہیں دیتے۔ کیوں کہ حق کا ساتھ دينا ان کے لیے یہ معنی رکھتا ہے کہ اپنی مصلحتوں کے بنے بنائے ڈھانچہ کو توڑ دیا جائے۔ پھر جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ حق کے گرد معمولی حیثیت کے لوگ جمع ہیں تو یہ صورت حال ان كے لیے اور زیادہ فتنہ بن جاتی ہے۔ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا ساتھ دے کر وہ اپنی حیثیت کو گرالیں گے۔ وہ حق کو حق کی کسوٹی پر نہ دیکھ کر اپنی کسوٹی پر دیکھتے ہیں اور جب حق ان کی اپنی کسوٹی پرپورا نہیں اترتا تو وہ اس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →