وَمَا قَدَرُواْ ٱللَّهَ حَقَّ قَدۡرِهِۦٓ إِذۡ قَالُواْ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَىٰ بَشَرٖ مِّن شَيۡءٖۗ قُلۡ مَنۡ أَنزَلَ ٱلۡكِتَٰبَ ٱلَّذِي جَآءَ بِهِۦ مُوسَىٰ نُورٗا وَهُدٗى لِّلنَّاسِۖ تَجۡعَلُونَهُۥ قَرَاطِيسَ تُبۡدُونَهَا وَتُخۡفُونَ كَثِيرٗاۖ وَعُلِّمۡتُم مَّا لَمۡ تَعۡلَمُوٓاْ أَنتُمۡ وَلَآ ءَابَآؤُكُمۡۖ قُلِ ٱللَّهُۖ ثُمَّ ذَرۡهُمۡ فِي خَوۡضِهِمۡ يَلۡعَبُونَ
And they did not appraise Allah with true appraisal when they said, "Allah did not reveal to a human being anything." Say, "Who revealed the Scripture that Moses brought as light and guidance to the people? You [Jews] make it into pages, disclosing [some of] it and concealing much. And you were taught that which you knew not - neither you nor your fathers." Say, "Allah [revealed it]." Then leave them in their [empty] discourse, amusing themselves
When the call of the Prophet Muhammad reached the people of Makkah, some of them asked certain Jews what they thought about it and whether God’s Word had really been revealed to the Prophet Mohammad. The Jews replied that God had not made revelations to any human being. This is obviously very strange, because the Jews themselves accepted a series of prophets, thus tacitly admitting that God’s word had indeed been revealed from time to time to human beings. But when a man blindly opposes anything, he will go to the extent of contradicting his own accepted ideas in the heat of attempting to defeat his opponent.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت مکہ کے لوگوں کے سامنے آئی تو ان کے کچھ لوگوں نے بعض یہود سے پوچھا کہ تمھارا اس بارے میں کیا خیال ہے۔ کیا محمد پر واقعی خدا کا کلام نازل ہوا ہے۔ یہود نے جواب دیا ’’خدا نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا ہے‘‘۔ بظاہر یہ بات بڑی عجیب ہے۔ کیوں کہ یہود تو خود نبیوں کو ماننے والے تھے، اور اس طرح گویا وہ اقرار کررہے تھے کہ بشر پر خدا کا کلام اترتا ہے۔ مگر جب آدمی مخالفت میں اندھا ہوجائے تو وہ مخالف کی تردید کے جوش میں کبھی یہاں تک پہنچ جاتا ہے کہ اپنی مانی ہوئی باتوں کي تردید کرنے لگے۔
یہود کے اندر یہ ڈھٹائی اس لیے پیدا ہوئی کہ انھوں نے خدا کی کتاب کو ورق ورق کردیا تھا۔ وہ خدا کی تعلیمات کے کچھ حصے کو سامنے لاتے اور بقیہ کو کتاب میں بند رکھتے۔ مثلاً وہ انعام والی آیتوں کو خوب سنتے سناتے اور ان آیتوں کو چھوڑ دیتے جن میں وہ اعمال بتائے گئے ہیں جن کے کرنے سے کسی کو مذکورہ انعام ملتاہے۔ وہ ایسی آیتوں کا خصوصی تذکرہ کرتے جن سے ان کی شور وغل کی سیاست کی تائید نکلتی ہو اور ان آیتوں کو نظر انداز کردیتے جن میں خاموش اصلاح کے احکام ديے گئے ہوں۔ وہ ایسی آیتوں کے درس میں بڑا اہتمام کرتے جن میں ان کے لیے لفظی موشگافیوں کا کمال دکھانے کا موقع ہو، مگر ان آیتوں سے سرسری گزر جاتے جن میں دین کے ابدی حقائق بیان كيے گئے ہیں۔وہ ایسی آیتوں کا خوب چرچا کرتے جن سے اپني فضیلت نکلتی ہو اور ان آیتوں سے بے توجہی برتتے ہیں جن سے ان کی ذمہ داریاں معلوم ہوتی ہیں۔ جو لوگ خدا کی کتاب کو اس طرح ’’ورق ورق‘‘ کریں ان کے اندر فطری طورپر ڈھٹائی آجاتی ہے۔ وہ غیر سنجیدہ بحثیں کرتے ہیں، متضاد بیانات دیتے ہیں۔ ان سے کسی حقیقی تعاون کی امید نہیں کی جاسکتی۔ جو لوگ خدا کی کتاب کے ساتھ انصاف نہ کریں، وہ انسانوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں کیسے انصاف کرسکتے ہیں۔
دین کی دعوت اصلاً لوگوں کو ہوشیار کرنے کی دعوت ہے۔ اس قسم کی دعوت خواہ کتنے ہی کامل انسان کی طرف سے پیش کی جائے وہ سننے والے کے دل میں اس وقت جگہ کرے گی جب کہ وہ اپنے سینہ میںایک اندیشہ ناک دل رکھتا ہو اورآخرت کے معاملہ کو ایک سنجیدہ معاملہ سمجھتا ہو۔ سننے والے میں اگر یہ ابتدائی مادہ موجود نہ ہو تو سنانے والا اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →