وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَخۡرَجۡنَا بِهِۦ نَبَاتَ كُلِّ شَيۡءٖ فَأَخۡرَجۡنَا مِنۡهُ خَضِرٗا نُّخۡرِجُ مِنۡهُ حَبّٗا مُّتَرَاكِبٗا وَمِنَ ٱلنَّخۡلِ مِن طَلۡعِهَا قِنۡوَانٞ دَانِيَةٞ وَجَنَّـٰتٖ مِّنۡ أَعۡنَابٖ وَٱلزَّيۡتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُشۡتَبِهٗا وَغَيۡرَ مُتَشَٰبِهٍۗ ٱنظُرُوٓاْ إِلَىٰ ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثۡمَرَ وَيَنۡعِهِۦٓۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكُمۡ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ
And it is He who sends down rain from the sky, and We produce thereby the growth of all things. We produce from it greenery from which We produce grains arranged in layers. And from the palm trees - of its emerging fruit are clusters hanging low. And [We produce] gardens of grapevines and olives and pomegranates, similar yet varied. Look at [each of] its fruit when it yields and [at] its ripening. Indeed in that are signs for a people who believe
Earth, or mud, is apparently a dead and inert thing. Then rain falls on it. Soon after the absorption of water, a new lush green world springs out of the earth. Sundry varieties of crops and different kinds of fruit-bearing trees come forth from it. This event also is an example of the coming world after this world. As soon as water permeates the earth, the emergence of a fresh, beautiful and fragrant carpet of colours from the earth indicates the potential which the Creator of the World has implanted here. The righteous deeds which a man performs in this world of today are on a parallel with this. When God’s grace rains down, this potential will become a reality—flourishing and producing the burgeoning crops of the Hereafter. Man, in the beginning, is nurtured in the womb of his mother and thereafter makes his entry into the present world. The grave is also, so to say, a sort of ‘womb’, to which man is ultimately consigned. Thereafter, he opens his eyes in another, future world, so that he may be sent to Heaven or Hell according to his deeds. Glimpses of and arguments in favour of the unseen hidden world, which man must necessarily accept, are already there in the present tangible and visible world. But only that person will accept it who is already mentally prepared to do so. It is only when a man has travelled half the distance along the path towards Faith (iman) that it is possible for the call to the faith to enter freely into his mind and to be acceptable to him. Exhortations to believe in God will not in any way benefit a man who has been travelling in a direction opposite to that of Faith.
انسانی کارخانے اس پر قادر نہیں کہ وہ ایک ایسی مشین بنادیں کہ اس کے بطن سے اسی قسم کی بے شمار مشینیں خود بخود نکلتی چلی جائیں۔ ہمارے کارخانوں کو ہر مشین الگ الگ بنانی پڑتی ہے۔ مگر خدا کے کارخانہ میں یہ واقعہ ہر روز ہورہا ہے۔ درخت کا ایک بیج بودیا جاتاہے۔ پھر اس بیج سے بے شمار درخت نکلتے چلے جاتے ہیں۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ایک مرد اور ایک عورت سے شروع ہو کر کھرب ہا کھرب انسان پیدا ہوتے چلے جارہے ہیں اور ان کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔ یہ مشاہدہ بتاتا ہے کہ جس خدانے کائنات کو پیدا کیا ہے اس کی قدرت بے حد وسیع ہے۔ وہ اس نادر تخلیق پر قادر ہے کہ ایک ابتدائی چیز وجود میں لائے اور پھر اس کے اندر سے بے حساب گنا زیادہ بڑی بڑی چیزیں مسلسل نکلتی چلی جائیں۔ اسی طرح خدا موجودہ دنیا سے ایک زیادہ شاندار اور زیادہ معیاری دنیا نکال سکتا ہے۔ آخرت کا عقیدہ کوئی دور کا عقیدہ نہیں بلکہ جس امکان کو ہم ہر روز دیکھ رہے ہیں اسی امکان کو مستقبل کے ایک واقعہ کی حیثیت سے تسلیم کرنا ہے۔
مٹی بظاہر ایک مُردہ اور جامد چیز ہے۔ پھر اس کے اوپر بارش ہوتی ہے۔ پانی پاتے ہی مٹی کے اندر سے ایک نئی سر سبز دنیا نکل آتی ہے۔ اس کے اندر سے طرح طرح کی فصلیں اور قسم قسم کے پھل دار درخت وجود میںآجاتے ہیں۔ یہ واقعہ بھی موجودہ دنیا کے بعد آنے والی دنیا کی ایک تمثیل ہے۔ مٹی پر پانی پڑنے سے زمین کے اوپر رنگ اور خوشبو اور ذائقہ کا ایک سر سبز وشاداب چمن کھل اٹھنا اُس امکان کو بتاتا ہے جو دنیا کے خالق نے یہاں رکھ دیا ہے۔ آج کی دنیا میں انسان جو نیک عمل کرتاہے وہ اسی قسم کا ایک امکان ہے۔ جب خداکی رحمتوں کی بارش ہوگی تو یہ امکان ہرا بھرا ہو کر آخرت کی لہلہاتی ہوئی فصل کی صورت میں تبدیل ہوجائے گا۔
انسان اولاً ماں کے بطن کے سپرد ہوتاہے پھر موجودہ دنیا میں آتاہے۔ قبربھی گویا اسی قسم کا ایک ’’بطن‘‘ ہے۔ آدمی قبر کے سپرد کیاجاتاہے اور اس کے بعد وہ اگلی دنیامیں آنکھ کھولتا ہے تاکہ اپنے عمل کے مطابق جنت یا جہنم میں داخل کردیا جائے — انسان سے غیب کی جس دنیا کو ماننے کا مطالبہ کیا جارہا ہے اس کی جھلکیاں اور اس کے دلائل موجودہ محسوس کائنات میں پوری طرح موجود ہیں۔ مگر مانتا وہی ہے جو پہلے سے ماننے کے لیے تیار ہو۔ ’’ایمان‘‘ کی راہ میں آدمی جب آدھا سفر طے کرچکا ہوتا ہے اس کے بعد یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایمان کی دعوت اس کے ذہن کا جزء بنے اور وہ اس کو قبول کرلے۔ جو شخص ایمان کے الٹے رخ پر سفر کررہا ہو اس کو ایمان کی دعوت کبھی نفع نہیں پہنچا سکتی۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →