وَلَمَّا جَآءَ مُوسَىٰ لِمِيقَٰتِنَا وَكَلَّمَهُۥ رَبُّهُۥ قَالَ رَبِّ أَرِنِيٓ أَنظُرۡ إِلَيۡكَۚ قَالَ لَن تَرَىٰنِي وَلَٰكِنِ ٱنظُرۡ إِلَى ٱلۡجَبَلِ فَإِنِ ٱسۡتَقَرَّ مَكَانَهُۥ فَسَوۡفَ تَرَىٰنِيۚ فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُۥ لِلۡجَبَلِ جَعَلَهُۥ دَكّٗا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقٗاۚ فَلَمَّآ أَفَاقَ قَالَ سُبۡحَٰنَكَ تُبۡتُ إِلَيۡكَ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
And when Moses arrived at Our appointed time and his Lord spoke to him, he said, "My Lord, show me [Yourself] that I may look at You." [Allah] said, "You will not see Me, but look at the mountain; if it should remain in place, then you will see Me." But when his Lord appeared to the mountain, He rendered it level, and Moses fell unconscious. And when he awoke, he said, "Exalted are You! I have repented to You, and I am the first of the believers
Moses wanted to see God, but when he learnt that it was not possible to do so, he turned to God in repentance and reposed his faith in God, the unseen. Thus man is put to the test of believing in God without seeing Him. Seeing God is a reward reserved for the Hereafter, so how is it possible to see God in this present world? Moses received his first prophetic call on the mountainside. The next time he was again called to the mountain to receive the commands of the Torah. This is an indication that the best place to receive divine inspiration is the environment of nature rather than that of human society. Where man emerges from the hubbub of this noisy world of human beings and reaches the quiet world of the trees, mountains and rivers, he begins to feel himself closer to God. His mind is free from mundane problems; it is not preoccupied with worldly thoughts, so this is the best moment for him to think without any bias or complexes which might affect his thinking. Then he can be in true communion with God.
حضرت ہارون موسی کے بڑے بھائی تھے، حضرت موسیٰ کی عمر ان سے تین سال کم تھی۔ مگر نبوت اصلاً حضرت موسیٰ کو ملی اور حضرت ہارون ان کے ساتھ صرف مددگار کی حیثیت سے شریک كيے گئے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ دینی عہدوں کی تقسیم میں اصل اہمیت استعداد کی ہے، نہ کہ عمر یا اسی قسم کی دوسری اضافی چیزوں کی۔
حضرت موسی کو مصر میں دعوتی احکام ديے گئے تھے اور صحرائے سینا میں پہنچنے کے بعد پہاڑی پر بلاکر قانونی احکام ديے گئے۔ اس سے خدائی احکام کی ترتیب معلوم ہوتی ہے۔ عام حالات میں خدا پرستوں سے جو چیز مطلوب ہے، وہ یہ کہ وہ ذاتی زندگی کو درست کریں،اور خدا کے پرستار بن کر رہیں۔ اسی کے ساتھ دوسروں کو بھی توحید وآخرت کی طرف بلائیں۔ مگر جب اہل ایمان آزاد اور بااختیار گروہ کی حیثیت حاصل کرلیں ، جیسا کہ صحرائے سینا میں بنی اسرائیل تھے، تو ان پر یہ فرض بھی عائد ہوجاتا ہے کہ اپنی اجتماعی زندگی کو شرعی قوانین کی بنیاد پر قائم کریں۔
حضرت موسیٰ نے اپنی غیر موجودگی کے لیے جب حضرت ہارون کو بنی اسرائیل کا نگراں بنایا تو فرمایا أَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ
7:142
) )اس سے معلوم ہوتاہے کہ اجتماعی سربراہ کے ليے اپنی ذمہ دایوں کو ادا کرنے کا بنیادی اصول کیا ہے۔ وہ ہے — اصلاح اور مفسدین کی پیروی نہ کرنا۔ اصلاح سے مراد یہ ہے کہ مختلف افراد کے درمیان انصاف کا توازن کسی حال میں ٹوٹنے نہ دیا جائے۔ ہر ایک کو وہی ملے جو اس کو از روئے عدل ملنا چاہيے اور ہر ایک سے وہی چھینا جائے جو ازروئے عدل اس سے چھینا جانا چاہیے۔ اس اصلاحی عمل میں اکثر وقت خرابی پیدا ہوتی ہے جب کہ سردار ’’مفسدین‘‘ کی پیروی کرنے لگے ۔ یہ پیروی کبھی اس شکل میں ہوتی ہے کہ اس کے مقربین اپنے ذاتی اغراض کی بنا پر جو کچھ کہیں وہ ان کو مان لے۔ اور کبھی اس طرح ہوتی ہے کہ مفسدین کی طاقت سے خوف زدہ ہو کر وہ خاموشی اختیار کرلے۔
حضرت موسیٰ نے خدا کو دیکھنا چاہا اور جب معلوم ہوا کہ خدا کو دیکھنا ممکن نہیں تو انھوں نے توبہ کی اور بغیر دیکھے ایمان کا اقرار کیا— انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ دیکھے بغیر خدا کو مانے۔ خدا کو دیکھنا ایک اخروی انعام ہے پھر وہ موجودہ دنیا میں کیوں کر ممکن ہوسکتا ہے۔
1 further citation is on a recording that is not available on YouTube at the moment, so it is not shown here. It is still counted above and included in the download.