وَقَطَّعۡنَٰهُمُ ٱثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ أَسۡبَاطًا أُمَمٗاۚ وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ إِذِ ٱسۡتَسۡقَىٰهُ قَوۡمُهُۥٓ أَنِ ٱضۡرِب بِّعَصَاكَ ٱلۡحَجَرَۖ فَٱنۢبَجَسَتۡ مِنۡهُ ٱثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنٗاۖ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٖ مَّشۡرَبَهُمۡۚ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ ٱلۡغَمَٰمَ وَأَنزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ ٱلۡمَنَّ وَٱلسَّلۡوَىٰۖ كُلُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقۡنَٰكُمۡۚ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ
And We divided them into twelve descendant tribes [as distinct] nations. And We inspired to Moses when his people implored him for water, "Strike with your staff the stone," and there gushed forth from it twelve springs. Every people knew its watering place. And We shaded them with clouds and sent down upon them manna and quails, [saying], "Eat from the good things with which We have provided you." And they wronged Us not, but they were [only] wronging themselves
God took the Israelites from the polytheistic atmosphere of Egypt and settled them in the desert of Sinai. Here they were organised and divided into twelve groups. Each group had a leader and all were under the charge of Moses. Then, the Children of Israel were specially provided with all the necessities of life. Water was provided for them from mountain springs. For their food, ‘manna and quails’ were sent down and these were readily available to them right in front of their tents. For their regular settlement one entire city, Ariho, (in the Jordan valley) was given to them. God then advised them that He had arranged for all their necessities and that they should therefore desist from being greedy for the pleasures of the world and the flesh and should not rush towards unholy things; instead, they should adopt the way of contentment and gratefulness towards God.
مصر کی مشرکانہ فضا سے نکال کر خدا نے بنی اسرائیل کو صحرائے سینا میں پہنچایا۔ یہاں ان کی تنظیم قائم کی گئی۔ ان کو بارہ جماعتوں میں بانٹ دیا گیا۔ ہر جماعت کے اوپر ایک نگراں تھا اور حضرت موسیٰ سب کے اوپر نگراں تھے۔
پھر بنی اسرائیل کو خصوصی طورپر تمام ضروریات زندگی عطا کی گئیں۔ پہاڑی چشمے نکال کر ان کے ليے پانی فراہم کیا گیا۔ کھلے صحرا میں سایہ کے ليے ان پر مسلسل بدلیاں بھیجی گئیں۔ ان کی خوراک کے ليے من وسلویٰ اترا جو به آسانی انھیں اپنے خیموں کے سامنے مل جاتاتھا۔ ان کی باقاعدہ سکونت کے ليے ایک پورا شہر اریحا (وادیٔ یردن میں) ان کے حوالے کردیا گیا۔
اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا کہ تمھاری تمام ضرو ریات کا ہم نے انتظام کردیا ہے۔ اب حرص اور لذت پرستی میں مبتلا ہو کر ناپاک چیزوں کی طرف نہ دوڑو۔ اس کے بجائے قناعت اور اللہ کے آگے شکر گزاری کا طریقہ اختیار کرو۔
’’باب (دروازہ) میں جھکے ہوئے داخل ہو‘‘ —یہاں باب سے مراد بستی کا دروازہ نہیں ہے بلکہ ہیکل سلیمانی کا دروازہ ہے۔ زمین میں اقتدار دینے کے بعد بنی اسرائیل سے کہاگیا کہ اپنی عبادت گاہ میں خاشع بن کر جاؤ اور گناہوں سے مغفرت مانگو۔ مسلمانوں کے یہاں جس طرح کعبہ کو بیت اللہ (خدا کاگھر) کہاجاتا ہے اسی طرح یہود کے یہاں ہیکل کو باب اللہ (خدا کا پھاٹک) کہاجاتاہے۔ یہود کو حکم دیاگیا تھا کہ اپنے عبادت خانہ میں عجزوتواضع کے ساتھ داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرو اور اللہ کی عظمت وجلال کو یاد کرکے اس کے آگے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے رہو۔ مگر یہود خدا کی نصیحتوں کو بھول گئے۔ وہ خدا کی بتائی ہوئی راہ پر چلنے کے بجائے خدا کے نام پر خود ساختہ راہوں کی طرف چلنے لگے۔ انھوں نے عجز کے بجائے سرکشی کا طریقہ اپنایا۔ شکر کا کلمہ بولنے کے بجائے وہ بے صبری کے کلمات بولنے لگے۔
یہود جب بگاڑ کی اس حد کو پہنچ گئے تو خدا نے اپنی عنایات ان سے واپس لے لیں۔ رحمت کے بجائے ان کو مختلف قسم کے عذابوں نے گھیر لیا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →