وَسۡـَٔلۡهُمۡ عَنِ ٱلۡقَرۡيَةِ ٱلَّتِي كَانَتۡ حَاضِرَةَ ٱلۡبَحۡرِ إِذۡ يَعۡدُونَ فِي ٱلسَّبۡتِ إِذۡ تَأۡتِيهِمۡ حِيتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعٗا وَيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُونَ لَا تَأۡتِيهِمۡۚ كَذَٰلِكَ نَبۡلُوهُم بِمَا كَانُواْ يَفۡسُقُونَ
And ask them about the town that was by the sea - when they transgressed in [the matter of] the sabbath - when their fish came to them openly on their sabbath day, and the day they had no sabbath they did not come to them. Thus did We give them trial because they were defiantly disobedient
It is a sin to do anything which God has prohibited. But to perform a prohibited act by attempting to legalize it through some trick amounts to adding insult to injury. By violating the rule of the Sabbath, the Jews had committed a double sin. Such people must suffer divine retribution; that is, they are deprived of the bounties which God has set apart for human beings alone. In this world such people fall from the level of humanity to the level of the animals.
یہود کو یہ تلقین کی گئی تھی کہ وہ ہفتہ کا ایک دن (سنیچر) عبادت اور ذکرِ خداکے ليے خاص رکھیں۔ اس دن کوئی معاشی کام نہ کریں۔ بائبل کے مطابق حکم یہ تھا کہ جو شخص سبت کے قانون کی خلاف ورزی کرے وہ مار ڈالا جائے (خروج
31:14
)۔ مگر جب یہود میں بگاڑ آیا تو وہ اس کی خلاف ورزی کرنے لگے۔ ان کے مصلحین نے متوجہ کیا تو وہ نہ مانے۔ تاہم مصلحین نے اپنی کوشش مسلسل جاری رکھی۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کی اصلاح کا کام اگر چہ بظاہر دوسروں کے ليے ہوتاہے مگر وہ خود اپنے ليے کیا جاتاہے۔ اس کا اصل محرک اپنے آپ کو اللہ کے یہاں بری الذمہ ٹھہرانا ہے۔ اگر یہ محرک زندہ نہ ہو تو آدمی درمیان میں ٹھهر جائے گا، وہ اپني اصلاح اور تبلیغ کے عمل کو آخر وقت تک جاری نہیں رکھ سکتا۔
یہود کی سرکشی کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاملہ کو ان کے ليے اور سخت کردیاگیا۔ بحر قلزم کی مشرقي خلیج کے کنارے ایلہ شہر میں یہود کی آبادیاں تھیں۔ ان کی معیشت کا انحصار زیادہ تر مچھلیوں کے شکار پر تھا۔ خدا کے حکم سے یہ ہوا کہ سنیچر کے دن ان کے ساحل پر مچھلیوں کی آمد بہت بڑھ گئی۔ بقیہ چھ دنوں میں مچھلیاں بہت کم آتیں۔ مگر ممنوعہ دن (سنیچر) کو وہ کثرت سے پانی کی سطح کے اوپر تیرتی ہوئی دکھائی دیتیں۔
یہ یہود کے ليے بڑی سخت آزمائش تھی۔ گویا پہلے اگر یہ نوعیت تھی کہ سنیچر کے علاوہ چھ جائز دنوں میں شکار کرنے کا پورا موقع تھا تو اب صرف ایک حرام دن ہی شکار کرنے کا موقع ان کے ليے باقی رہ گیا۔ اب یہود نے یہ کیا کہ وہ حیلہ کے ذریعہ حرام کو حلال کرنے لگے۔ وہ سنیچر کے دن شکار نہ کرتے۔ البتہ وہ سمندر کا پانی کاٹ کر باہر بنے ہوئے حوضوں میں لاتے۔ سنیچر کے دن مچھلیاں چڑھتیں تو وہ نالی کے راستہ سے ان کے بنائے ہوئے حوض میں آجاتیں۔ اس کے بعد وہ حوض کا منھ بند کرکے مچھلیوں کے دریا میں لوٹنے کا راستہ روک دیتے۔ پھر اگلے دن اتوار کو جاکر ان کو پکڑ لیتے۔ اس طرح وہ ایک ناجائز فعل کو جواز کی صورت دینے کی کوشش کرتے تاکہ ان پر یہ حکم صادق نہ آئے کہ انھوں نے سنیچر کے دن شکار کیا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص جائز ذرائع سے اپنی ضروریات فراہم کرنے پر قناعت نہ کرے تو وہ اپنے آپ کو اس خطرہ میں ڈالتا ہے کہ اس کے ليے جائز ذرائع کا دروازہ سرے سے بند کردیا جائے اور نا جائز ذریعہ کے سوا اس کے ليے حصول معاش کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →