فَلَمَّا عَتَوۡاْ عَن مَّا نُهُواْ عَنۡهُ قُلۡنَا لَهُمۡ كُونُواْ قِرَدَةً خَٰسِـِٔينَ
So when they were insolent about that which they had been forbidden, We said to them, "Be apes, despised
This was the fate of those who contravened the rule of the Sabbath. But ‘God made them apes,’ does not mean that their faces became the faces of apes; it means that their character became ape-like; their hearts and thinking were like those of apes instead of human beings. (Tafsir al-Qurtubi). Now, man’s becoming an ape means that he becomes so insensitive after taking action again and again against the dictates of his wisdom and conscience, that any fine feelings are completely driven out of him. Whatever desire takes shape in his heart, he puts it into action. Whenever anyone comes into his ambit, he will attack his honour and property. If he has a complaint against anybody, he will immediately set about degrading that person. If he has any differences with anybody, he will start denigrating him. If he finds somebody to be an impediment in his way, he will immediately start fighting with him. A true man is one who applies the bridle of God to himself, and an ape is one who unrestrictedly starts doing whatever his base self asks him to do. Preventing others from doing evil is, in fact, a way of proclaiming that one has discharged one’s responsibility. So, when God’s scourge falls upon a group, those people who are extremely disgusted with evil, to the extent of becoming its preventers, are saved from this punishment. A human being is a creature into whom the Creator has infused intelligence and conscience. In a human being when some desire takes shape, his wisdom and conscience immediately becomes activated and the question arises as to whether the fulfillment of that desire is proper or not. In the case of an ape, however, there is no impediment between his wish and its fulfillment. Whatever comes into his mind he immediately does it. It is not necessary for him to think about his wish, nor need he be ashamed after pursuing it.
ایک کام جس سے خدا نے منع کیا ہو اس کو کرنا گناہ ہے اور حیلہ کے ذریعہ ناجائز کو جائز بنا کر کرنا گناہ پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ قانون سبت کی خلاف ورزی کرکے یہود اسی قسم کے مجرم بن گئے تھے۔ ایسے لوگ خدا کی لعنت کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ یعنی وہ خدا کی ان عنایتوں سے محروم ہوجاتے ہیں جو اس نے اس دنیا میں صرف انسان کے ليے مخصوص کی ہیں۔ ایسے لوگ انسانیت کی سطح سے گر کر حیوانیت کی سطح پر آجاتے ہیں۔
قانون سبت کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ یہی معاملہ کیاگیا۔ ’’اللہ نے ان کو بندر بنادیا‘‘ کا مطلب یہ نہیںہے کہ ان کی صورت بندروں کی صورت ہوگئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کااخلاق بندروں جیسا ہوگیا۔ ان کا دل اور ان کی سوچ انسانوں کے بجائے بندر جیسے ہوگئے۔ قيل بل جعل أخلاقهم كأخلاقها وإن لم تكن صورتهم كصورتها (المفردات للراغب الأصفہانى، صفحہ
666
)۔ وَرُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ أَنَّهُ إِنَّمَا مُسِخَتْ قُلُوبُهُمْ فَقَطْ، وَرُدَّتْ أَفْهَامُهُمْ كَأَفْهَامِ الْقِرَدَةِ (تفسیر القرطبی، جلد1، صفحہ
443
)
انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کے اندر اس کے خالق نے عقل اور ضمیر رکھ دیا ہے۔ اس کے اندر جب کوئی خواہش اٹھتی ہے تو اس کی عقل وضمیر متحرک ہو کر فوراً اس کے سامنے یہ سوال کھڑا کردیتے ہیں کہ ایسا کرنا تمھارے ليے درست ہے یا نہیں۔ اس کے برعکس، بندر کا حال یہ ہے ا س کی خواہش اور اس کے عمل کے درمیان کوئی تیسری چیز حائل نہیں۔ جو بات بھی اس کے جی میں آجائے وہ فوراً اس کو كر ڈالتا ہے۔ اس کو نه اپنی خواہش کے بارے میں میں سوچنے کی ضرورت ہوتی اور نہ اس پر عمل کرنے کے بعد اس پر شرمندہ ہونے کی۔
اب انسان کا بندر ہوجانا یہ ہے کہ وہ اپنی عقل اور اپنے ضمیر کے خلاف عمل کرتے کرتے اتنا بے حس ہوجائے کہ اس قسم کے نازک احساسات اس کے اندر سے جاتے رہیں۔ اس کے دل میں جو بھی خواہش پیدا ہو اس کو وہ کرگزرے۔ جب بھی کوئی شخص اس کی زد میں آجائے تو وہ اس کی عزت اور اس کے مال پر حملہ کردے۔ کسی سے شکایت پیدا ہو تو فوراً اس کو ذلیل کرنے کے ليے کھڑا ہوجائے۔ کسی سے اختلاف ہوجائے تو اس پر غرانے لگے۔ کوئی اس کو اپنی راہ میں رکاوٹ نظر آئے تو فوراً اس سے لڑنا شروع کردے۔ سچا انسان وہ ہے جو اپنے آپ پر خدا کی لگام لگالے۔ اور بندر انسان وہ ہے جو بے قید ہو کر وہ سب کچھ کرنے لگے جو اس کا نفس اس سے کرنے کے ليے کہے۔
برائی سے روکنا ایک قسم کا اعلانِ برأت ہے۔ اس ليے کسی گروہ پر جب خدا کی یہ سزا آتی ہے تو اس کی زد میں آنے سے وہ لوگ بچا ليے جاتے ہیں جو برائی سے اس حد تک بے زار ہوں کہ وہ اس کے روکنے والے بن جائیں۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →