قَالَ ٱخۡرُجۡ مِنۡهَا مَذۡءُومٗا مَّدۡحُورٗاۖ لَّمَن تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ لَأَمۡلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكُمۡ أَجۡمَعِينَ
[Allah] said, "Get out of Paradise, reproached and expelled. Whoever follows you among them - I will surely fill Hell with you, all together
Sometimes God chooses a messenger to convey His word to the people, but his status as a guide is not readily acceptable to them. For this would imply that they were inferior to the messenger as they had failed to arrive at the truth. On such occasions Satan stirs up feelings of jealousy and pride. Puffed up with the feeling: ‘I am better,’ a man is not prepared to acknowledge the superiority of his brother. In the eyes of God, this amounts to treading the path of Satan. In such instances, one who treads the path of jealousy and pride makes himself deserving of the fate of hell, while one who remains humble proves that he deserves to find an abode in the gardens of Paradise. Whatever a man receives comes from God. So, the admission of someone else’s superiority is in fact an admission of the propriety of God’s endowments. Thus, denying the superiority of a well-endowed person is like the denial of God’s own decree. Similarly, when one man yields to another on the basis of some truth, he is not bowing down before just some man but before God; he does so in response to God’s command and not because of the other’s personal superiority.
خدا نے انسان کو اس دنیا میں جو کچھ دیا ہے اس ليے دیا ہے کہ اس کا نفسیاتی جواب وہ شکر کی صورت میں پیش کرے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جس کو آدمی اپنے رب کے سامنے پیش نہیں کرتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان اس کے اندر دوسرے دوسرے جذبات ابھار کر اس کو شکر کی نفسیات سے دور کردیتا ہے۔
آدم اور ابلیس کے قصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ہدایت اور گمراہی کا معرکہ کہاں برپا ہے۔ یہ معرکہ ان مواقع پر برپا ہے جہاں آدمی کے اندر حسد اور گھمنڈ کی نفسیات جاگتی ہیں۔ امتحان کی اس دنیا میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمي سے اوپر اٹھ جاتا هے، كبھي كوئي شخص دولت وعزت ميں دوسرے سے زياده حصه پاليتا هے۔ كبھي دو آدميوں کے درمیان ایسا معاملہ پڑتا ہے کہ ایک شخص کے ليے دوسرے کو اس کا جائز حق دینا اپنے کو نیچے گرانے کے ہم معنی نظر آتا ہے۔ کبھی کسی شخص کی زبان سے خدا ایک سچائی کا اعلان کراتاہے اور وہ ان لوگوں کو اپنے سے برتر دکھائی دینے لگتا ہے جو اس سچائی تک پہنچنے میں ناکام رہے تھے۔ ایسے مواقع پر شیطان آدمی کے اندر حسد اور گھمنڈ کی نفسیات جگادیتا ہے۔ ’’میں بہتر ہوں‘‘کے جذبہ سے مغلوب ہو کروہ اپنے بھائی کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ یہی خدا کی نظر میں شیطان کے راستہ پر چلنا ہے۔ جس شخص نے ایسے مواقع پر حسد اور گھمنڈ کا طریقہ اختیار کیا اس نے اپنے کو جہنمی انجام کا مستحق بنالیا جو شیطان کے لیے مقدر ہے اور جس نے ایسے مواقع پر شیطان کے پیدا كيے ہوئے جذبات کو اپنے اندر کچل ڈالا اس نے اس بات کا ثبوت دیا کہ وہ اس قابل ہے کہ اس کو جنت کے باغوں میں بسایا جائے۔
جو کچھ کسی کو ملتا ہے خدا کی طرف سے ملتا ہے۔ اس ليے کسی کي فضیلت کا اعتراف دراصل خدا کی تقسیم کے برحق ہونے کا اعتراف ہے اور اس کی فضیلت کو نہ ماننا خدا کی تقسیم کو نہ ماننا ہے۔ اسی طرح جب ایک شخص کسی حق کی بنا پر دوسرے کے آگے جھکتا ہے تو وہ کسی آدمی کے آگے نہیں جھکتا بلکہ خدا کے آگے جھکتا ہے۔ کیوں کہ ایسا وہ خداکے حکم کی بنا پر کر رہا ہے، نہ کہ اس آدمی کے ذاتی فضل کی بنا پر۔