وَٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا سَنَسۡتَدۡرِجُهُم مِّنۡ حَيۡثُ لَا يَعۡلَمُونَ
But those who deny Our signs - We will progressively lead them [to destruction] from where they do not know
The reason for man’s being misguided in respect of God is that, although he accepts His existence, he often frames a wrong image of God in his mind. He attributes some things to God which do not befit His glory. For example, imagining things as in the case of a human being, he formulates the idea of God’s close ones. Looking at Kings, he assumes the existence of deputies and assistants of God, just as there are regents and advisers of Kings. In the matter of God’s decisions, he assumes such things as fulfil his desires, but which are not in accordance with God’s justice. Attributing to God such matters as are not consistent with His Majesty and Glory amounts to distortion of the names of God. God does not seize a person immediately for his wrongdoing. In this way, he is given the opportunity either to take a lesson from God’s warnings and reform himself, or to become still more fearless so that his guilt becomes well-established.
سچائی ایک ایسی چیز ہے جس کو ہر آدمی کو خود پانا پڑتاہے۔ خدا نے ہر آدمی کو دل اور آنکھ او رکان ديے ہیں۔ آدمی انھیں صلاحیتوں کو استعمال کرکے سچائی کو پاتا ہے۔ اور جو شخص ان صلاحیتوں کو استعمال نہ کرے وہ یقیناً سچائی کو پانے سے محروم رہے گا،خواہ سچائی اس سے کتنا ہی زیادہ قریب موجود ہو۔
سچائی کو پانا ہر آدمی کا ایک شعوری اور ارادی فعل ہے۔ سچائی کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس نے اپنے دل کے دروازے اس کے ليے کھلے رکھے ہوں۔ اس کو وہی دیکھ سکتا ہے جس نے اپنی آنکھوں پر مصنوعی پردے نہ ڈالے ہوں۔ اس کی آواز اسی کو سنائی دے سکتی ہے جس نے اپنے کان میں کسی قسم کے ڈاٹ نہ لگارکھے ہوں۔ ایسے لوگ سچائی کی آواز کو پہچان کر اس کے آگے اپنے کو ڈال دیں گے۔ اور جس شخص کا معاملہ اس کے برعکس ہو وہ چوپایوں کی طرح نا سمجھ بنا رہے گا۔ پہاڑ جیسے دلائل کا وزن محسوس کرنا بھی اس کے ليے ممکن نہ ہوگا۔ اس کے سامنے خدا کی تجلّیاں ظاہر ہوں گی مگر وہ اس کو دیکھنے سے عاجز ہوگا۔ اس کے پاس خدا کا نغمہ چھیڑا جائے گا مگر وہ اس کو سننے سے محروم رہے گا۔ سچائی ہمیشہ بیدار لوگوں کو ملتی ہے۔ غافلوں کے ليے کوئی سچائی سچائی نہیں۔
خدا کے بارے میںانسان کے بے راہ ہونے کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے كه وه خدا كو مانتے هوئے اپنے ذهن ميں خدا كي غلط تصوير بنا ليتا هے۔ وه خدا كي طرف ايسي باتيں منسوب كرديتا هے جو اس کے شایان شان نہیں ہیں۔ مثلاً انسانوں کے حالات پر قیاس کرکے خدا کے مقربین کا عقیدہ بنالینا۔ بادشاہوں کو دیکھ کر یہ فرض کرلینا کہ جس طرح بادشاہوں کے نائب اور مددگار ہوتے ہیں اسی طرح خدا کے بھی نائب اور مددگار ہیں۔ خدائی فیصلہ کے بارے میں ایسا خیال قائم کرلینا جس میں آدمی کی اپنی خواہشیں تو پوری ہورہی ہوں مگر وہ خداوندی عدل سے مطابقت نہ رکھتاہو۔ یہ خدا کے ناموں میں کجی کرنا ہے کہ خدا کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں جو اس کی عظمت کے شایان شان نہ ہوں۔
خدا کسی آدمی کی کج روی پر فوراً اس کو نہیں پکڑتا۔ اس طرح اس کو موقع دیاجاتاہے کہ وہ یا تو خدا کی تنبیہات کو دیکھ کر سنبھل جائے یا مزید ڈھیٹ ہوکر اپنے جرم کو پوری طرح ثابت شدہ بنادے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →