وَإِن تَدۡعُوهُمۡ إِلَى ٱلۡهُدَىٰ لَا يَسۡمَعُواْۖ وَتَرَىٰهُمۡ يَنظُرُونَ إِلَيۡكَ وَهُمۡ لَا يُبۡصِرُونَ
And if you invite them to guidance, they do not hear; and you see them looking at you while they do not see
However, this is not restricted only to known types of idols. This is the condition of all things—things which are given the status of objects of worship—from one’s native country and community to personalities, whether dead or alive, to whom those feelings are attached, whereas in reality, these feelings should be attached to the one and only God. All come into the same category (that is, it amounts to according them the status of God.) What is the reality of all these things? None has its own power; none of them has legs, hands or eyes of its own making. Every ‘leg-owner’ has been given a leg; if this limb is snatched away, he cannot make another leg again. Every ‘hand owner’ has been given a hand; if this hand does not remain with him, he cannot make another hand. Every ‘eye-owner’ has had an eye gifted to him; if this eye is lost, it is not possible for him to make another eye for himself. God alone is man’s Sustainer and Saviour. In this world He remains invisible but in the world of the Hereafter, He will reveal Himself, then man will see with his own eyes that it was God who alone was the provider and the sustainer of human beings. It was only because of his foolishness that he had attributed this to other supposed deities. These associates have no power of their own to take care even of themselves, so what can they do for others? It is God alone who helps His servants in this world and it is He who will also help His faithful servants in the world to come.
بت پرست لوگ پتھر یا دھات کی جو مورتیاں بناتے ہیں، اس کا فلسفہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ خارجی مظاہر ہیں، جن کے اندر ان کا مزعومہ دیوتا حلول کر آیا ہے۔ ان مظاہر کی پرستش ان کے نزدیک اُن معبودوں کی پرستش ہے جن کی وہ محسوس علامتیں ہیں۔ تاہم عوام کی سطح پر عملاً بت پرستی جو شکل اختیار کرتی ہے وہ یہ کہ لوگ خود ان مورتیوں کو مقدس سمجھنے لگتے ہیں۔ ان بتوں میں نہ چلنے کی طاقت ہوتی، نہ پکڑنے کی، نہ دیکھنے کی اور نہ سننے کی۔ مگر وہی انسان ان کی بابت یہ فرض کرلیتاہے کہ وہ اس کے کام آئیں گے اور اس کی حاجتیں پوری کریں گے۔
تاہم یہ معاملہ معروف قسم کے بتوں کا ہی نہیں ہے۔ ان کے سوا جن چیزوں کو انسان معبودیت کا درجہ دیتاہے ان کا حال بھی یہ ہے ، وطن اور قوم سے لے کر زندہ یا مردہ شخصیتوں تک جن چیزوں سے بھی وہ جذبات وابستہ كيے جاتے ہیں جو صرف ایک خدا کا حق ہے، ان کی حقیقت کیاہے۔ ان میں سے کسی کے پاس بھی کوئی ذاتي طاقت نہیں۔ کوئی بھی پاؤں یا ہاتھ یا آنکھ والا ایسا نہیں جس کے پاؤں اور ہاتھ اور آنکھ اس کے اپنے ہوں۔ ہر ’’پاؤں‘‘ والے کے پاس دیاہوا پاؤں ہے اور اگر اس کا پاؤں چھن جائے تو وہ اس کو دوبارہ واپس نہیں لاسکتا۔ ہر ’’ہاتھ‘‘ والے کے پاس دیا ہوا ہاتھ ہے اور اگر اس کا ہاتھ باقی نہ رہے تو وہ دوبارہ اپنا ہاتھ نہیں بنا سکتا۔ ہر ’’آنکھ‘‘ والے کی آنکھ دی ہوئی آنکھ ہے اور اگر اس کی آنکھ جاتی رہے تو اس کے ليے ممکن نہیں کہ وہ دوبارہ اپنے ليے آنکھ تیار کرلے۔
غیر اللہ کی پرستش کرنے والے لوگ اپنے بتوں کے بھروسہ پر ہمیشہ ایک خدا کے پرستاروں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔ مگر یہ لوگ بہت جلد جان لیں گے کہ خدا کی اس دنیا میں ان کا بھروسہ کس قدر بے بنیاد تھا۔ جس خدا کا ظہور موجودہ دنیا میں کتابی میزان کی صورت میںہوا ہے، اس کا ظہور عنقریب عدالتی میزان کی صورت میں ہونے والا ہے۔ اس وقت ہر آدمی دیکھ لے گا کہ کام بنانے والا صرف خدا تھا۔ اگر چہ آدمی اپنی نادانی کی وجہ سے دوسروں کو اپنا کام بنانے والا سمجھتا رہا۔ شریکوں کے پاس تو سرے سے مدد کرنے کی کوئی طاقت ہی نہیں، مگر خدا اپنے وفادار بندوں کی مدد دنیا میں بھی کرتاہے۔ اور آخرت میں بھی۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →