وَٱذۡكُرُوٓاْ إِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢ بَعۡدِ عَادٖ وَبَوَّأَكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ تَتَّخِذُونَ مِن سُهُولِهَا قُصُورٗا وَتَنۡحِتُونَ ٱلۡجِبَالَ بُيُوتٗاۖ فَٱذۡكُرُوٓاْ ءَالَآءَ ٱللَّهِ وَلَا تَعۡثَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُفۡسِدِينَ
And remember when He made you successors after the 'Aad and settled you in the land, [and] you take for yourselves palaces from its plains and carve from the mountains, homes. Then remember the favors of Allah and do not commit abuse on the earth, spreading corruption
The people of Thamud perfected the art of construction. They were definitely well versed in related branches of knowledge, for example, mathematics, geometry and engineering, otherwise such development could not have been possible. But they were held guilty not of material developments but of spreading disturbance on the earth. This means that God does not prohibit progress within legitimate limits. But, in the matter of how he conducts his life, man should follow the balanced system which God has enforced in the whole universe. When a prophet comes to the world, he is a controversial figure in his time rather than an established personality. Moreover, he is not surrounded by worldly glories. He is not the occupier of any of the important seats of the time. That is why his contemporaries, unable to understand his prophethood, reject him. They find it difficult to believe that one whom they know as an ordinary person is the very individual whom God has chosen to deliver His message. ‘We are believers in that with which he has been sent.’ This reply of Salih’s companions tells us the difference between them and others. Those who deny the truth looked at the personality of Salih while the believers looked at the real message. Since, for those who denied the truth, no outward glory surrounded the personality of Salih, they ignored him. The believers, on the contrary, saw glimpses of Truth in Salih’s message, so they immediately accepted his words and became his companions.
قوم عاد کی تباہی کے بعد اس کے صالح افراد عرب کے شمال مغرب میں حجر کے علاقہ میں آباد ہوئے۔ ان کی نسل بڑھی اور انھوںنے زراعت اور تعمیر میں بڑی ترقیاں کیں۔ انھوں نے میدانوں میں محل بنائے اور پہاڑوں کو تراش کر ان کو بڑے بڑے حجري مکانات کی صورت دے دی۔بعد کو ان میں وہ خرابیاں پیدا ہوگئیں جومادی ترقی اور دنیوی خوش حالی کے ساتھ قوموں میں پیدا ہوتی ہیں۔ عیش پرستی، آخرت فراموشی، حدود اللہ سے بے پروائی، اللہ کی بڑائی کو بھول کر اپنی بڑائی قائم کرنا۔اس وقت اللہ نے حضرت صالح کو کھڑا کیا تاکہ وہ ان کو اللہ کی پکڑ سے ڈرائیں۔ مگر انھوں نے نصیحت قبول نہ کی۔ وہ اپنے فساد کو صلاح میں بدلنے پر راضی نہ ہوئے۔ جس کائنات میں تمام چیزیں خدا کی تابع بن کر رہ رہی ہیں وہاں انھوں نے خدا کا سرکش بن کر رہنا چاہا۔ جہاں ہر چیز اپنی حد کے اندر اپنا عمل کرتی ہے وہاں انھوں نے اپنی حد سے تجاوز کرکے زندہ رہنا چاہا۔ یہ ایک اصلاح یافتہ دنیا میں فساد پھیلانا تھا۔ چنانچہ ان کو دنیا میں بسنے کے ليے نااہل قرار دے دیا گیا۔
قوم ثمود کو جانچنے کے ليے خدا نے ایک اونٹنی مقرر کی اور کہا کہ اس کو تکلیف نہ پہنچانا ورنہ ہلاک کرديے جاؤ گے۔ خدا کے لیے یہ بھی ممکن تھا کہ وہ ان کے لیے ایک خوفناک شیر مقرر کردے۔ مگر خدا نے شیر کے بجائے اونٹنی کو مقرر فرمایا۔ اس کا راز یہ ہے که آدمی کی خدا ترسی کا امتحان ہمیشہ ’’اونٹنی‘‘ کی سطح پر لیا جاتا ہے، نہ کہ ’’شیر ‘‘ کی سطح پر۔ سماج میں ہمیشہ کچھ ناقۃ اللہ (خدا کی اونٹنی) جیسے لوگ ہوتے ہیں۔ یہ وہ کم زور افراد ہیں جن کے ساتھ وہ مادی زور نہیں ہوتا جو لوگوں کو ان کے خلاف کارروائی کرنے سے روکے۔ جن کے ساتھ حسن سلوک کا محرک صرف اخلاقی احساس ہوتا ہے، نہ کہ کوئی ڈر۔ مگر یہی وہ لوگ ہیں جن کی سطح پر لوگوں كي خدا پرستی جانچی جارہی ہے۔ یہی وہ افراد ہیں جن کے ذریعہ کسی کو جنت کا سرٹیفکٹ دیا جارہا ہے اور کسی کو جہنم کا۔
ثمود نے فن تعمیر میں کمال پیداکیا۔ متعلقہ علوم مثلاً ریاضی، ہندسہ، انجینئرنگ میں بھي یقیناً انھوں نے ضروری دستگاہ حاصل کی ہوگی ورنہ یہ ترقیات ممکن نہ ہوتیں۔ مگر ان کو جس بات کا مجرم ٹھہرایا گیا وہ ان کی مادی ترقیاں نہیں تھیں بلکہ زمین میں فساد پھیلانا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جائز حدود میں ترقی کرنے سے خدا نہیں روکتا۔ البتہ زندگی کے معاملات میں آدمی کو اس نظام اصلاح کا پابند رہنا چاہیے جو خدا نے پوری کائنات میں قائم کررکھا ہے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →