۞قَالَ ٱلۡمَلَأُ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ مِن قَوۡمِهِۦ لَنُخۡرِجَنَّكَ يَٰشُعَيۡبُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَكَ مِن قَرۡيَتِنَآ أَوۡ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَاۚ قَالَ أَوَلَوۡ كُنَّا كَٰرِهِينَ
Said the eminent ones who were arrogant among his people, "We will surely evict you, O Shu'ayb, and those who have believed with you from our city, or you must return to our religion." He said, "Even if we were unwilling
When the people of Midian went to extremes in their wrongful ways, God sent Shu‘ayb to them with His message. He exhorted them to adopt the way of righteousness and honesty in their dealings. With the help of clear arguments, He made them fully aware of the necessity for honesty. But they were not willing to accept the admonition. Not only that, they were not ready to accept the mission of Shu‘ayb. They distorted his preachings and created misunderstanding among the people about him. They even resorted to violent means to dissuade the people from supporting him. In the end the retribution of God descended upon them and they were destroyed. In the eyes of God, matters relating to the consideration of the rights of fellow human beings and honesty in mutual dealings are so important that a community, in spite of claiming to be believers, was destroyed. God is the best Judge and His judgement cannot be biased.
حضرت شعیب کی قوم خدا کے انکار کی مجرم نہ تھی بلکہ خدا پر افتراء کرنے کی مجرم تھی۔ یعنی اس نے خدا کی طرف ایک ایسے دین کو منسوب کررکھا تھا جس کو خدا نے ان کے ليے اتارا نہ تھا۔ یہی تمام انبیاء کی قوموں کا حال رہا ہے۔ انبیاء کی قومیں سب وہی تھی جن پر اس سے پہلے خدانے اپنا دین اتارا تھا مگر بعد کو انھوںنے خود ساختہ تبدیلیوں اور اضافوں کے ذریعہ اس کو کچھ سے کچھ کردیا۔ انھوں نے خدا کے دین کو اپنی خواہشات کا دین بنا ڈالا اور اسی کو خدا کا دین کہنے لگے۔
وقت کے قائم شدہ دین میں جن لوگوں کو عزت اور بڑائی کا مقام ملا ہوا تھا انھوںنے محسوس کیا کہ دلیل کے اعتبار سے ان کے پاس پیغمبر کی باتوں کا توڑ نہیں ہے۔ تاہم اقتدار کے ذرائع سب انھیں کے پاس تھے۔ انھوں نے دلیل کے ميدان میں اپنے کو لاجواب پاکر یہ چاہا کہ زور وقوت کے ذریعہ وہ پیغمبر کو خاموش کردیں۔ انھوں نے پیغمبر کے ساتھیوں کو اس نازک صورت حال کی یاد لائی کہ وقت کے نظام میں زندگی کے تمام سرے انھیں لوگوں کے پاس ہیں جن کو وہ باطل ٹھہرا رہے ہیں۔ یہ باطل لوگ اگر ان کے خلاف متحرک ہوجائیں تو اس کے بعد وہ زندگی کے ذرائع کہاں پائیں گے۔ مگر وہ بھول گئے کہ خداا ن سے بھی زیادہ طاقت ور ہے۔ اور خدا جس کے خلاف ہوجائے اس کے ليے کہیں جائے پناہ نہیں۔
کسی شخص کے ليے صرف اس وقت تک چھوٹ ہے جب تک اس پر امر حق واضح نہ ہوا ہو۔ امر حق جب بخوبی طورپر واضح ہوجائے اور اس کے بعد بھی آدمی سرکشی کرے تو وہ ہمدردی کا استحقاق کھو دیتا ہے۔ اسی بنیادپر دنیا میں بھی کسی مجرم کے ليے سزا ہے اور اسی بنیاد پر آخرت میں بھی لوگوں کے لیے ان کے جرم کے مطابق سزا کا فیصلہ ہوگا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →