أَفَأَمِنُواْ مَكۡرَ ٱللَّهِۚ فَلَا يَأۡمَنُ مَكۡرَ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡقَوۡمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ
Then did they feel secure from the plan of Allah? But no one feels secure from the plan of Allah except the losing people
It happens again and again that a community reaches a high level of honour and prosperity and thereafter faces decline. It is removed from the scene and in its place another community occupies the same position of honour and prosperity that the former community enjoyed. This event is a sign of God, which should remind man of His supremacy. It shows that all the strings controlling gains and losses are in the hands of a supreme being. He may award good fortune to one or take it away from another. Making use of the powers of observation and thinking bestowed on him by God, man can easily understand these facts. He will realise that had the real source of power not been in other hands, the group which once managed to attain ascendancy would never have allowed others to replace it. If man can learn such lessons, he will find divine nourishment in the rise and fall of nations. But whenever a community falls from grace and another community rises in its place, the members of the rising community entertain the misunderstanding that whatever happened to the previous community was the fate particular to that community, and that it was never going to happen to them.
حدیث میں آیا ہے کہ مومن پر مصیبتیں آتی رہتی ہیں۔ یہاںتک کہ وہ گناہوں سے پاک ہوجاتاہے۔ اور منافق کی مثال گدھے کی طرح ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے مالک نے کس ليے اس کو باندھا اور کیوں اس کو چھوڑ دیا (لَا يَزَال الْبَلَاء بِالْمُؤْمِنِ حَتَّى يَخْرُج نَقِيًّا مِنْ ذُنُوبه وَالْمُنَافِق مَثَله كَمَثَلِ الْحِمَار لَا يَدْرِي فِيمَ رَبَطَهُ أَهْله وَلَا فِيمَ أَرْسَلُوهُ )تفسیر ابن کثیر، جلد3، صفحہ 450۔
خدا انسان کے اوپر مختلف قسم کی تکلیفیں ڈالتا ہے تاکہ اس کا دل نرم ہو۔ خدا کے سوا دوسری چیزوں پر اس کا اعتماد ٹوٹ جائے، اس کا وہ گھمنڈ جاتا رہے جو آدمی کے ليے اپنے سے باہر کسی سچائی کو قبول کرنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اس طرح خدائی انتظام کے تحت آدمی کے اندر کمی اور بے چارگی کی نفسیات پیدا کی جاتی ہے تاکہ وہ حق کی آواز پر کان لگائے۔ خدا کا یہ معاملہ عام لوگوں کے ساتھ بھی ہوتاہے اور پیغمبر کے مخاطب گروہ کے ساتھ بھی۔ تاہم یہ معاملہ سنت الٰہی کے تحت التباس واشتباہ کے پردہ میں ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی آفت آتی ہے تو وہ اسباب وعلل کے روپ میں آتی ہے۔ یہ صورت حال بہت سے لوگوں کے ليے فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ یہ کہہ کر اس کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ یہ تو ایک ہونے والی بات تھی جو ہوئی۔ پھر جب وہ مصیبتوں سے اثر نہیں لیتے تو خدا ان کے حالات بدل کر ان کو خوش حالی میں مبتلا کردیتا ہے۔ اب اس قسم کے لوگ اور بھی زیادہ مغالطہ میں پڑجاتے ہیں۔ ان کو یقین ہوجاتاہے کہ یہ محض حوادث روزگار کی بات تھی۔یہ وہی عام اتار چڑھاؤ تھا جو ہمیشہ لوگوں کے ساتھ پیش آتا رہا ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ ہم کو برے دن کے بعد اچھے دن دیکھنے کو ملے۔ وہ پہلی تنبیہ سے بھی سبق لینے سے محروم رہتے ہیں اور دوسری تنبیہ سے بھی۔
سرکشی کے بعد کسی کو ترقی ملنا سخت خطرناک ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا نے اس کو ایسی حالت میں پکڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے جب کہ وہ اپنے پکڑے جانے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بے خوف ہوچکا ہو۔
ایمان اور تقویٰ کی زندگی کا فائدہ اگر چہ اصلاً آخرت میں ملنے والا ہے۔ تاہم خدا اگر چاہتا ہے تو دنیا میں بھی وہ ایسے لوگوں کو فراخی اور عزت کی صورت میں ان کے عمل کا ابتدائی انعام دے دیتا ہے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →