قَٰتِلُوهُمۡ يُعَذِّبۡهُمُ ٱللَّهُ بِأَيۡدِيكُمۡ وَيُخۡزِهِمۡ وَيَنصُرۡكُمۡ عَلَيۡهِمۡ وَيَشۡفِ صُدُورَ قَوۡمٖ مُّؤۡمِنِينَ
Fight them; Allah will punish them by your hands and will disgrace them and give you victory over them and satisfy the breasts of a believing people
The root of all wisdom is fear of God. The fear of God develops in man the readiness to accept the Truth; it awakens in man a certain consciousness that enables him to see realities in their original form. That is why it does not take the God-fearing man long to understand the Divine plan. He comes to know the will of God and dedicates himself to it with full confidence. He starts moving on that right path which ultimately leads to success. The fear of God makes a man’s eye tearful, and before God, it is only the tearful eye which is destined to be cooled in this world as well as in the Hereafter.
ائمہ کفر سے مراد قریش ہیں جو اپنے قائدانہ مقام کی وجہ سے عرب میں اسلام کے خلاف تحریک کی امامت کررہے تھے ۔ قریش کے اس کردار سے معلوم ہوتاہے کہ اسلام کی تحریک جب اٹھتی ہے تو اس کا پہلا مخالف کون گروہ بنتاہے۔ یہ وہ گروہ ہے جس کو بے آمیز حق کے پیغام میں اپنی بڑائی پر زد پڑتی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہی وہ سربرآوردہ طبقہ ہے جس کے پاس وه ذهن هوتا هے كه وه اسلامي دعوت ميں شوشے نكال كر لوگوں كو اس كي طرف سے مشتبه كرے۔ اسي كے پاس وہ وسائل ہوتے ہیں کہ وہ اسلام کے داعیوں کی حوصلہ شکنی کے ليے ان کو طرح طرح کی مشکلات میں ڈالے۔ اسی کے پاس وہ زور ہوتاہے کہ وہ حق پرستوں کو ان کے گھروں سے نکالنے کی تدبیر کرے۔ حتی کہ اسی کو یہ مواقع حاصل ہوتے ہیں کہ اسلام کے ماننے والوں کے خلاف باقاعدہ جنگ کی آگ بھڑکاسکے۔
’’ان کے عہد کچھ نہیں ‘‘ بہت معنیٰ خیز فقرہ ہے۔ جو لوگ دشمنی اور ضد کی بنیاد پر کھڑے ہوئے ہوں ان کے وعدے اور معاہدے بالکل غیر یقینی ہوتے ہیں ۔ ان کی نفسیات میں اپنے حریف کے خلاف مستقل اشتعال برپا رہتا ہے۔ ان کے اندر ٹھہراؤ نہیں ہوتا۔ وہ اگر معاہدہ بھی کرلیں تو اپنے مزاج کے اعتبار سے اس کو دیر تک باقی رکھنے پر قادر نہیں ہوتے۔ زیادہ دیر نہیں گزرتی کہ اپنے منفی جذبات سے مغلوب ہو کر وہ معاہدہ کو توڑ دیتے ہیں اور اس طرح اہلِ حق کو یہ موقع دیتے ہیں کہ اپنے اوپر پہل کا الزام ليے بغیر وہ ان کے خلاف مدافعانہ کارروائی کریں اور خدا کی مدد سے ان کا خاتمہ کردیں ۔
تمام حکمت اور دانائی کا سرا اللہ کا ڈر ہے۔ اللہ کا ڈر آدمی کے اندر اعتراف کا مادہ پیدا کرتا ہے۔ وہ آدمی کے اندر وہ شعور جگاتا ہے کہ وہ حقیقتوں کو ان کے اصلی روپ میں دیکھ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے کے ليے خدائی منصوبہ کو سمجھنے میں دیر نہیں لگتی۔ وہ خدا کی منشا کو جان کر پورے اعتماد کے ساتھ اپنے آپ کو اس میں لگا دیتاہے۔ وہ اس صحیح ترین راستہ پر چل پڑتا ہے جس کی آخری منزل صرف کامیابی ہے۔ اللہ کا ڈر آدمی کی آنکھوں کو اشک آلود کردیتاہے۔ مگر اللہ کے ليے بھیگی ہوئی آنکھ ہی وہ آنکھ ہے جس کے ليے یہ مقدر ہے کہ اس کو ٹھنڈک حاصل ہو، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →