يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُوٓاْ ءَابَآءَكُمۡ وَإِخۡوَٰنَكُمۡ أَوۡلِيَآءَ إِنِ ٱسۡتَحَبُّواْ ٱلۡكُفۡرَ عَلَى ٱلۡإِيمَٰنِۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمۡ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
O you who have believed, do not take your fathers or your brothers as allies if they have preferred disbelief over belief. And whoever does so among you - then it is those who are the wrongdoers
But this idea of the polytheists was absolutely wrong. They were making the mistake of comparing the outward appearances of things with the realities. Supplying drinking water to the visitors of the Sacred Mosque; cleaning the Mosque and lighting it; covering the Ka‘bah, attending to its floor and walls—all these are outward, showy deeds. How can they be equal to the deeds of a man who discovers God and spends the rest of his life caring about the Hereafter; who dedicates his life and property to God; who denies all other greatness and makes God his great one? The real discoverers of Truth are not those who discover it at the meaningless level of outward show, but those who are attached to Truth at the level of self-sacrifice and not simply at the level of superficial exhibitionism. There are two types of attachment: one is to ritual, in which a man performs deeds of a showy nature, but does not offer himself or his wealth for the cause of God. The other is one in which a man is so serious about his faith that if he is required to renounce anything for its sake, he does so willingly, and whatever he is required to give, he gives willingly. One who evinces the second kind of attachment will, after death, be blessed by God with great munificence.
لوگوں کے ليے اپنا خاندان، اپنی جائداد، اپنے معاشی مفادات سب سے قیمتی ہوتے ہیں ۔ انھیں چیزوں کو وہ سب سے زیادہ اهم سمجھتے ہیں ۔ ہر دوسری چیز کے مقابلہ میں وہ ان کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنا سب کچھ ان کے اوپر نثار کردیتے ہیں ۔ اس قسم کی زندگی دنیا دارانہ زندگی ہے۔ ایسا آدمی جو کچھ پاتا ہے بس اسی دنیا میں پاتا ہے۔ موت کے بعد والی ابدی دنیا میں اس کے ليے کچھ نہیں ۔ اس کے برعکس، دوسری زندگی وہ ہے جب کہ آدمی اللہ اور رسول کو اور اللہ کی راہ میں جدوجہد کو سب سے زیادہ اہمیت دے اور اس کی خاطر دوسری ہر چیز چھوڑنے کے لیے تیار رہے۔ یہی دوسری زندگی خدا پرستانہ زندگی ہے اور ایسے ہی لوگوں کے ليے آخرت میں ابدی جنتوں کے دروازے کھولے جائیں گے۔
ایک زندگی وہ ہے، جو دنیوی تعلقات اور دنیوی مفادات کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔ دوسری زندگی وہ ہے جو ایمان کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔ دونوں میں سے جس چیز کو بھی آدمی اپنی زندگی کی بنیاد بنائے، وہ ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ وہ اس کی خاطر دوسری چیزوں کو چھوڑ دے۔ وہ کچھ لوگوں سے تعلق قائم کرے اور کچھ دوسرے لوگوں سے بے تعلق ہوجائے۔ وہ کچھ چیزوں کی بقاء اور ترقی میں اپنی ساری توجہ لگادے اور کچھ دوسری چیزوں کی بقاء اور ترقی کے معاملہ میں بے پروا بنا رہے۔ کچھ نقصانات اس کو کسی قیمت پر گوارا نہ ہوں ، وہ جان پر کھیل کر اپنا بہترین سرمایہ خرچ کرکے ان کو بچانے کی کوشش کرے اور کچھ دوسرے نقصانات کو وہ اپنی آنكھوں سے دیکھے مگر ان کے بارے میں اس کے اندر کوئی تڑپ پیدا نہ ہو۔ دنیا ہمیشہ ان لوگوں ملتی ہے جو دنیا کی خاطر اپنا سب کچھ لگا دیں ۔ اسی طرح آخرت صرف ان لوگوں کے حصہ میں آئے گی جو آخرت کی خاطر دوسری چیزوں کو قربان کردیں ۔
ترجیح (ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو اختیار کرنے کا معاملہ) انتہائی سنگین ہے۔ حتی کہ وہی آدمی کے کفر وایمان کا فیصلہ کرتا ہے۔ خدا کی دنیا میں جس طرح کھلے کافروں کے ليے کامیابی مقدر نہیں ہے اسی طرح ان لوگوں کے ليے بھی یہاں کامیابی کا کوئی امکان نہیں ، جو ایمان کا دعویٰ کریں اور جب نازک موقع آئے تو وہ آخرت پسندانہ روش کے مقابلہ میں دنیا دارانہ روش کو ترجیح دیں ۔ ایسے مدعیانِ ایمان اگر اپنے بارے میں خوش فہمی میں مبتلا ہوں تو ان کو اس وقت معلوم ہوجائے گا جب اللہ اپنا فیصلہ ظاہر کردے گا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →