لَا يَسۡتَـٔۡذِنُكَ ٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ أَن يُجَٰهِدُواْ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡۗ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِٱلۡمُتَّقِينَ
Those who believe in Allah and the Last Day would not ask permission of you to be excused from striving with their wealth and their lives. And Allah is Knowing of those who fear Him
If a son is ill or if there is a daughter’s marriage, at such a time nobody spares himself or his money. If such an occasion arises, he will sacrifice his life and his wealth for the sole purpose if being of use to his kinsfolk. This is the time to do one’s utmost rather than sheltering behind excuses. The truly religious individual, however, will never put forward excuses, when some occasion arises which demands sacrifice for religion. The restless emotions of faith in his heart await such a crucial moment when he will have the occasion to sacrifice himself and prove his loyalty before God. Then, such an occasion having arisen, how would such a person try to hide behind an excuse? The benefits of the Hereafter not being present before a human being, he entertains doubts about undertaking any sacrifices for it. But to tear off this veil of doubt is the real test of man in this world.
منافق وہ ہے جو اسلام کے نفع بخش یا بے ضرر پہلوؤں میں آگے آگے رہے مگر جب اس کے مفادات پر زد پڑتی نظر آئے تو وہ پیچھے ہٹ جائے۔ ایسے مواقع پر اس قسم کے کمزور لوگ جس چیز کا سہارا لیتے ہیں وہ عذر ہے۔ وہ اپنی بے عملی کو خوبصورت توجیہات میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مسلمانوں کا سربراہ اگر اجتماعی مصالح کے پیش نظر ان کے عذر کو قبول کرلے تو وہ خوش ہوتے ہیں کہ انھوں نے اپنے الفاظ کے پردے میں نہایت کامیابی کے ساتھ اپنی بے عملي کو چھپا لیا۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ اصل معاملہ انسان سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔ اور وہ ہر آدمی کی حقیقت کو اچھی طرح جانتا ہے۔ خدا ایسے لوگوں کا راز کبھی دنیا میں کھول دیتا ہے اور آخرت میں تو بہر حال ہر ایک کا راز کھولا جانے والا ہے۔
کسی کا لڑکا بیمار ہو یا کسی کی لڑکی کی شادی ہو تو اس وقت وہ اپنے آپ کو اور اپنے مال کو اس سے بچا کر نہیں رکھتا۔ اس کی زندگی اور اس کا مال تو اسی ليے ہے کہ ایسا کوئی موقع آئے تو وہ اپنا سب کچھ نثار کرکے ان کے کام آسکے۔ ایسا کوئی وقت اس کے ليے بڑھ کر قربانی دینے کا ہوتا ہے، نہ کہ عذرات کی آڑ تلاش کرنے کا۔ یہی معاملہ دین کا بھی ہے۔ جو شخص اپنے دین میں سنجیدہ ہو وہ دین کے ليے قربانی کا موقع آنے پر کبھی عذر تلاش نہیں کرے گا۔ اس کے سینے میں جو ایمانی جذبات بے قرار تھے وہ تو گویا اسی دن کے انتظار میں تھے کہ جب کوئی موقع آئے تو وہ اپنے آپ کو نثار کرکے خدا کی نظر میں اپنے کو وفادار ثابت کرسکے۔ پھر ایسا موقع پیش آنے پر وہ عذر کا سہارا کیوں ڈھونڈے گا۔
مومن خدا سے ڈرنے والا ہوتا ہے اور ڈر کا جذبہ آدمی کے اندر سب سے زیادہ قوی جذبہ ہے۔ ڈر کا جذبہ دوسرے تمام جذبات پر غالب آجاتاہے۔ جس چیز سے آدمی کو ڈر اور اندیشہ کا تعلق ہو اس کے بارے میں وہ آخری حد تک سنجیدہ اور حقیقت پسند ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شخص ڈر کی سطح پر خدا کا مومن بن جائے تو اس کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگتی کہ کس موقع پر اسے کس قسم کا رد عمل پیش کرناچاہيے۔
آخرت کا نفع سامنے نہ ہونے کی وجہ سے آدمی اس کے ليے قربانی دینے میں شک میں پڑ جاتا ہے۔ مگر اس شک کے پردہ کو پھاڑنا ہی اس دنیا میں آدمی کا اصل امتحان ہے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →