لَوۡ خَرَجُواْ فِيكُم مَّا زَادُوكُمۡ إِلَّا خَبَالٗا وَلَأَوۡضَعُواْ خِلَٰلَكُمۡ يَبۡغُونَكُمُ ٱلۡفِتۡنَةَ وَفِيكُمۡ سَمَّـٰعُونَ لَهُمۡۗ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِٱلظَّـٰلِمِينَ
Had they gone forth with you, they would not have increased you except in confusion, and they would have been active among you, seeking [to cause] you fitnah. And among you are avid listeners to them. And Allah is Knowing of the wrongdoers
At a time when a son is ill or there is a daughter’s marriage, nobody spares himself or his money; he will sacrifice his life and his wealth for the sole purpose of being of use to his kinsfolk. This is not the time for sheltering behind excuses. Similarly, the truly religious individual will never put forward excuses, when some occasion arises which demands sacrifice for religion. The restless emotions of faith in his heart await such a crucial moment when he will have the chance to sacrifice himself and prove his loyalty before God. Then, such an occasion having arisen, how would such a person try to hide behind an excuse? The believer is God-fearing in nature, fear being the strongest feeling in man. The feeling of fear overcomes all other feelings. A man becomes extremely realistic and serious about anything to which he relates to. For this reason, one who has become a believer in God at the level of fear wastes no time in understanding what his reaction should be on particular occasions. The benefits of the Hereafter not being present before a human being, he entertains doubts about making any sacrifices for it. But to tear off this veil of doubt is the real test of man in this world.
دین کو اختیار کرنا ایک مخلصانہ ہوتا ہے اور دوسرا منافقانہ۔ مخلصانہ طورپر دین کو اختیار کرنا یہ ہے کہ دین کے مسئلہ کو آدمی اپنی زندگی کا مسئلہ بنائے، اپنی زندگی اور اپنے مال پر وہ سب سے زیادہ دین کا حق سمجھے۔ اس کے برعکس، منافقانہ طورپر دین کو اختیار کرنا یہ ہے کہ دین سے بس رسمی اور ظاہری تعلق رکھا جائے۔ دین کو آدمی اپنی زندگی میں یہ مقام نہ دے کہ اس کے ليے وہ وقف ہوجائے اور ہر قسم کے نقصان کا خطرہ مول لے کر اس کی راہ میں آگے بڑھے۔
اپنی غلطی کو ماننا اپنے کو دوسرے کے مقابلہ میں کمتر تسلیم کرنا ہے اور اس قسم کا اعتراف کسی آدمی کے ليے مشکل ترین کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی ہمیشہ اس کوشش میں رہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنے موقف کو صحیح ثابت کردے۔ چنانچہ منافقانہ طورپر اسلام کو اختیار کرنے والے ہمیشہ اس تلاش میں رہتے ہیں کہ کوئی موقع ملے تو مخلص مومنوں کو مطعون کریں اور ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو زیادہ درست ثابت کرسکیں ۔
مدینہ کے منافقین مسلسل اس کوشش میں رہتے تھے۔ مثلاً غزوۂ احد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تو مدینہ میں بیٹھ رہنے والے منافقین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف یہ پروپیگنڈا شروع کردیا کہ ان کو معاملات جنگ کا تجربہ نہیں ہے۔ انھوں نے جو ش کے تحت اقدام کیا اور ہماری قوم کے جوانوں کو غلط مقام پر لے جاکر خواہ مخوا کٹوا دیا۔
انسانوں میں کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مسائل کا گہرا تجزیہ کرسکیں اور اس حقیقت کو جانیں کہ کسی بات کا قواعدِ زبان کے اعتبار سے صحیح الفاظ میں ڈھل جانااس کا كافي ثبوت نہیں ہے کہ وہ بات معنی کے اعتبار سے بھی صحیح ہوگی۔ بیشتر لوگ سادہ فکر کے ہوتے ہیں اور کوئی بات خوبصورت الفاظ میں کہی جائے تو وه بہت جلد اس سے متاثر ہوجاتے ہیں ۔ اس بنا پر کسی مسلم گروہ میں منافق قسم کے افراد کی موجودگی ہمیشہ اس گروہ کی کمزوری کا باعث ہوتی ہے۔ یہ لوگ اپنے کو درست ثابت کرنے کی کوشش میں اکثر ایسا کرتے ہیں کہ باتوں کو غلط رخ دے کر ان کو اپنے مفید مطلب رنگ میں بیان کرتے ہیں ۔ اس سے سادہ فکر کے لوگ متاثر ہوجاتے ہیں اور ان کے اندر غیر ضروری طور پر شبہ اور بے یقینی کی کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے۔
منافقین کی مخالفانه کوششوں کے باوجود جب بدر کی فتح ہوئی تو عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے کہا: هَذَا أَمْرٌ قَدْ تَوَجَّهَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4566)۔ یعنی یہ چیز تو اب چل نکلی۔ اسلام کا غلبہ ظاہر ہونے کے بعد انھیں اسلام کی صداقت پر یقین کرنا چاہيے تھا مگر اس وقت بھی انھوں نے اس سے حسد کی غذا لی۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →