إِن تُصِبۡكَ حَسَنَةٞ تَسُؤۡهُمۡۖ وَإِن تُصِبۡكَ مُصِيبَةٞ يَقُولُواْ قَدۡ أَخَذۡنَآ أَمۡرَنَا مِن قَبۡلُ وَيَتَوَلَّواْ وَّهُمۡ فَرِحُونَ
If good befalls you, it distresses them; but if disaster strikes you, they say, "We took our matter [in hand] before," and turn away while they are rejoicing
When there was a general call to set out for the campaign of Tabuk, one Jud ibn Qais of Madinah came to the Prophet Muhammad and said: ‘Please excuse me from taking part in this campaign. This is a Roman area. There after seeing the Roman women, I will be caught in trying circumstances (fitna).’ But, making excuses on such occasions in itself amounts to being affected in fitna, because in moments of adversity, far from seeking excuses to lag behind, the urge to sacrifice himself for the sake of religion should well up inside a man. To give such an excuse a religious and moral colour is a greater evil, since it amounts to adding fraud to inaction. This type of attitude develops in an individual because he is more attached to his worldly interests than to the Hereafter. In times of danger, such people hold themselves back from treading the path of religion. Then, when the real proponents of Truth suffer any loss due to their uncompromising, principled behaviour, these people are happy, feeling that it is good that they adopted the policy of keeping themselves safe. On the contrary, if it happens that the real supporters of truth face dangers and yet are successful, then they are unhappy, because this occurrence proves that the policy they had adopted was not correct.
مدینہ میں ایک شخص جُد بن قیس تھا۔ تبوک کے غزوہ میں نکلنے کے ليے اعلان عام ہوا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہا کہ مجھے اس غزوہ سے معاف رکھيے۔ یہ رومی علاقہ ہے۔ وہاں رومی عورتوں کو دیکھ کر میں فتنہ میں پڑ جاؤں گا، مگر ایسے مواقع پر عذر پیش کرنا بجائے خود فتنہ میں پڑنا ہے۔ کیوں کہ نازک مواقع پر آدمی کے اندر دین کی خاطر فدا ہوجانے کا جذبہ بھڑکنا چاہيے، نہ کہ عذرات تلاش کرکے پیچھے رہ جانے کا۔ پھر ایسے کسی عذر کو دینی اور اخلاقی رنگ دینا اور بھی زیادہ برا ہے۔ کیوں کہ یہ بے عملی پر فریب کاری کا اضافہ ہے۔
اس قسم کا مزاج حقیقۃً آدمی کے اندر اس ليے پیدا ہوتا ہے کہ وہ اپنی دنیا کو آخرت کے مقابلہ میں عزیز تر رکھتاہے۔ خطرات کے موقع پر ایسے لوگ دین کی راہ میں آگے بڑھنے سے رکے رہتے ہیں ۔ پھر جب سچے حق پرستوں کو ان کی غیر مصلحت اندیشانہ دینداری کی وجہ سے کبھی کوئی نقصان پہنچ جاتا ہے تو یہ لوگ خوش ہوتے ہیں کہ بہت اچھا ہوا کہ ہم نے اپنے ليے حفاظتی پہلو اختیار کرلیا تھا۔ اس کے برعکس، اگر ایسا ہو کہ سچے حق پرست خطرات کا مقابلہ کریں اور اس میں انھیں کامیابی ہو تو ان لوگوں کے دل تنگ ہوتے ہیں ۔ کیوں کہ ایسا کوئی واقعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ انھوں نے جو پالیسی اختیار کی وہ درست نہ تھی۔
سچے اہل ایمان کے ليے اس دنیا میں ناکامی کا سوال نہیں ۔ ان کی کامیابی یہ ہے کہ خدا ان سے راضی ہو اور یہ ہر حال میں انھیں حاصل ہوتا ہے۔ مومن پر اگر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس کے دل کی انابت کو بڑھاتی ہے۔ اگر اس کو کوئی سکھ ملتاہے تو اس کے اندر احساس مندی کا جذبہ ابھرتاہے اور وہ شکر کرکے خدا کی مزید عنایتوں کا مستحق بنتا ہے۔
’’تم انتظار کرو ہم بھی انتظار کررہے ہیں ‘‘ بظاہر مومنین کا کلمہ ہے۔ مگر حقیقۃً یہ خدا کی طرف سے ہے۔ خدا ان لوگوں سے تہدیدی انداز میں کہہ رہا ہے کہ تم لوگ اہلِ حق کی بربادی کے منتظر ہو، حالاں کہ خدا کے تقدیری نظام کے مطابق انھیں ابدی کامیابی ملنے والی ہے۔ اور تمھارے ساتھ جو ہونا ہے وہ یہ کہ تمھارے جرم کو آخری حد تک ثابت کرکے تم کو دائمی طورپر رسوائی اور عذاب کے حوالے کردیا جائے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →