كَٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ كَانُوٓاْ أَشَدَّ مِنكُمۡ قُوَّةٗ وَأَكۡثَرَ أَمۡوَٰلٗا وَأَوۡلَٰدٗا فَٱسۡتَمۡتَعُواْ بِخَلَٰقِهِمۡ فَٱسۡتَمۡتَعۡتُم بِخَلَٰقِكُمۡ كَمَا ٱسۡتَمۡتَعَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُم بِخَلَٰقِهِمۡ وَخُضۡتُمۡ كَٱلَّذِي خَاضُوٓاْۚ أُوْلَـٰٓئِكَ حَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ
[You disbelievers are] like those before you; they were stronger than you in power and more abundant in wealth and children. They enjoyed their portion [of worldly enjoyment], and you have enjoyed your portion as those before you enjoyed their portion, and you have engaged [in vanities] like that in which they engaged. [It is] those whose deeds have become worthless in this world and in the Hereafter, and it is they who are the losers
The characteristics of people hypocritically connected with Islam are carelessness about the Hereafter, interest in worldly affairs, avoidance of cooperation with goodness, and an inclination towards exhibitionism. Because of these common characteristics, they remain very well united. These things give them subjects of common interest for discussion, and provide them with a field for mutual cooperation. This becomes a basis for close relations between them. The reverse is true of genuine believers, because the love of God is embedded in their hearts. Their greatest care is for the Hereafter. They have connections with worldly things only to the extent necessary and not as a goal. If any work which is pleasing to God is under way, their hearts are immediately attracted towards it. On the contrary, any work of an evil nature arouses disgust and loathing in them. Their life and their assets are first and foremost for the sake of God and not for themselves. They commemorate God and spend for His cause.
پہلے لوگوں کو خدا نے جاہ ومال دیا تو انھوں نے اس سے فخر اور گھمنڈ اور بے حسی کی غذا لی۔ تاہم بعد والوں نے ان کے انجام سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ انھوں نے بھی دنیا کے سازوسامان سے اپنے ليے وہی حصہ پسند کیا جس کو ان کے پچھلوں نے پسند کیا تھا۔ یہی ہر دور میں عام آدمی کا حال رہاہے۔ وہ حق کے تقاضوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ مال واولاد کے تقاضے ہی اس کے نزدیک سب سے بڑی چیز ہوتے ہیں ۔
منافق کا حال بھی باعتبار حقیقت یہی ہوتاہے۔ وہ ظاہری طورپر تو مسلمانوں جیسا نظر آتا ہے مگر اس کے جینے كي سطح وہی ہوتی ہے جو عام دنیا داروں کی سطح ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ بعض نمائشی اعمال کو چھوڑ کر حقیقی زندگی میں وہ ویسا ہی ہوتاہے جیسے عام دنیا دار ہوتے ہیں ۔ منافق کي قلبی دلچسپیاں دین دار کے مقابلہ میں دنیا داروں سے زیادہ وابستہ ہوتی ہیں ۔ آخرت کی مد میں خرچ کرنے سے اس کا دل تنگ ہوتا ہے مگر بے فائدہ دنیوی مشاغل میں خرچ کرنا ہو تو وہ بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیتا ہے۔ حق کا فروغ اس کو پسند نہیں آتا البتہ ناحق کا فروغ ہو تو اس کو وہ شوق سے گوارا کرتاہے۔ ظاہری دین داری کے باوجود وہ خدا اور آخرت کو اس طرح بھولا رہتا ہے جیسے اس کے نزدیک خدا اور آخرت کی کوئی حقیقت نہیں ۔
ایسے لوگ اپنے ظاہری اسلام کی بناپر خداکی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔ دنیا میں ان کے لیے لعنت ہے اور آخرت میں ان کے ليے عذاب۔ دنیا میں بھی وہ خدا کی رحمتوں سے محروم رہیں گے اور آخرت میں بھی۔
خدا کے ساتھ کامل وابستگی ہی وہ چیز ہے جو آدمی کے عمل میں قیمت پیدا کرتی ہے۔ کامل وابستگی کے بغیر جو عمل کیا جائے، خواہ وہ بظاہر دینی عمل کیوں نہ ہو، وہ آخرت میں اسی طرح بے قیمت قرار پائے گا جیسے روح کے بغیر کوئی جسم، جو جسم سے ظاہری مشابہت کے باوجود عملاً بے قیمت ہوتا ہے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →