وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰٓ أَحَدٖ مِّنۡهُم مَّاتَ أَبَدٗا وَلَا تَقُمۡ عَلَىٰ قَبۡرِهِۦٓۖ إِنَّهُمۡ كَفَرُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَمَاتُواْ وَهُمۡ فَٰسِقُونَ
And do not pray [the funeral prayer, O Muhammad], over any of them who has died - ever - or stand at his grave. Indeed, they disbelieved in Allah and His Messenger and died while they were defiantly disobedient
Hypocrites of this kind are always those who, because of their policy of expediency, gather around themselves the resources of position and wealth. Due to this, the general run of Muslims are impressed by their worldly position. Their glamorous lives and their glib talk make them seem great in the eyes of the common man. This can create moments of grave trial for an Islamic society, because, in a truly Islamic society, such people ought to be ignored rather than being given places of honour. The real Islamic society will not be willing to accord a position of honour to those about whom it is abundantly clear that they are Muslims in name only, being in fact loyal only to their own vested interests and worldly considerations. The fate of such people is that in Islamic functions they find a place only on the back benches; they have no share in the congregational affairs of Muslims, being held unfit to grace religious offices. Any society in which such people have been able to attain a position of honour can never be looked upon with favour by God.
غزوۂ تبوک سخت گرمی کے موسم میں ہوا۔ مدینہ سے چل کر شام کی سرحد تک تین سو میل جانا تھا۔ منافق مسلمانوں نے کہا کہ ایسی تیز گرمی ميں اتنا لمبا سفر نہ کرو۔یہ کہتے ہوئے وہ بھول گئے کہ خدا کی پکار سننے کے بعد کسی خطرہ کی بنا پر نہ نکلنا اپنے آپ کو شدید تر خطرہ میں مبتلا کرنا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے دھوپ سے بھاگ کر آگ کے شعلوں کی پناہ لی جائے۔
جو لوگ خدا کے مقابلہ میں اپنے کو اور اپنے مال کو زیادہ محبوب رکھتے ہیں وہ جب اپنی خوبصورت تدبیروں سے اس میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ وہ مسلمان بھی بنے رہیں اور اسی کے ساتھ ان کی زندگی اور ان کے مال کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے کو عقل مند سمجھتے ہیں اور ان لوگوں کو بے وقوف کہتے ہیں جنھوں نے خدا کی رضا کی خاطر اپنے كو ہلکان کررکھا ہو۔
مگر یہ سراسر نادانی ہے۔ یہ ایسا ہنسنا ہے جس کا انجام رونے پر ختم ہونے والا ہے۔ کیوں کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں اس قسم کی ’’ہوشیاری‘‘ سب سے بڑی نادانی ہوگی۔ اس وقت آدمی افسوس کرے گا کہ وہ جنت کا طلب گار تھا مگر اس نے اپنے اثاثہ کی وہی چیز اس کے لیے نہ دی جو دراصل جنت کی واحد قیمت تھی۔
اس قسم کے منافق ہمیشہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی تحفظاتی پالیسی کی وجہ سے اپنے گرد مال وجاہ کے اسباب جمع کرلیتے ہیں اس بنا پر عام مسلمان ان سے مرعوب ہوجاتے ہیں ۔ ان کی شان دار زندگیاں اور ان کے خوب صورت باتیں لوگوں کی نظر میں ان کوعظیم بنادیتی ہیں ۔ یہ کسی اسلامی معاشرہ کے ليے ایک سخت امتحان ہوتا ہے۔ کیوں کہ ایک حقیقی اسلامی معاشرہ میں ایسے لوگوں کو نظر انداز کیا جانا چاہیے، نہ یہ کہ ان کو عزت کا مقام دیا جانے لگے۔
جن لوگوں کے بارے میں پوری طرح معلوم ہوجائے کہ وہ بظاہر مسلمان بنے ہوئے ہیں مگر حقیقۃً وہ اپنے مفادات اور اپنی دنیوی مصلحتوں کے وفادار ہیں ان کو حقیقی اسلامی معاشرہ کبھی عزت کے مقام پر بٹھانے کے ليے راضی نہیں ہوسکتا۔ ایسے لوگوں کا انجام یہ ہے کہ وہ اسلامی تقریبات میں صرف پیچھے کی صفوں میں جگہ پائیں ۔ مسلمانوں کے اجتماعی معاملات میں ان کا کوئی دخل نہ ہو۔ دینی مناصب کے ليے وہ نااہل قرار پائیں ۔ جس معاشرہ میں ایسے لوگوں کو عزت کا مقام ملاہوا ہو وہ کبھی خدا کا پسندیدہ معاشرہ نہیں ہوسکتا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →