وَإِذَآ أُنزِلَتۡ سُورَةٌ أَنۡ ءَامِنُواْ بِٱللَّهِ وَجَٰهِدُواْ مَعَ رَسُولِهِ ٱسۡتَـٔۡذَنَكَ أُوْلُواْ ٱلطَّوۡلِ مِنۡهُمۡ وَقَالُواْ ذَرۡنَا نَكُن مَّعَ ٱلۡقَٰعِدِينَ
And when a surah was revealed [enjoining them] to believe in Allah and to fight with His Messenger, those of wealth among them asked your permission [to stay back] and said, "Leave us to be with them who sit [at home]
Hypocrites of this kind are always those who, because of their policy of expediency, gather around themselves the resources of position and wealth. Due to this, the general run of Muslims are impressed by their worldly position. Their glamorous lives and their glib talk make them seem great in the eyes of the common man. This can create moments of grave trial for an Islamic society, because, in a truly Islamic society, such people ought to be ignored rather than being given places of honour. The real Islamic society will not be willing to accord a position of honour to those about whom it is abundantly clear that they are Muslims in name only, being in fact loyal only to their own vested interests and worldly considerations. The fate of such people is that in Islamic functions they find a place only on the back benches; they have no share in the congregational affairs of Muslims, being held unfit to grace religious offices. Any society in which such people have been able to attain a position of honour can never be looked upon with favour by God.
منافق اپنے دنیا پرستانہ طریقوں کی وجہ سے اپنے آس پاس دنیا کا سازوسامان جمع کرلیتا ہے۔ اس کے ساتھ مددگاروں کی بھیڑ دکھائی دیتی ہے۔ یہ چیزیں سطحی قسم کے لوگوں کے ليے مرعوب کن بن جاتی ہیں ۔ لیکن گہری نظر سے دیکھنے والوں کے ليے اس کی ظاہری چمک دمک قابل رشک نہیں بلکہ قابل عبرت ہے۔ کیوں کہ یہ چیزیں جن لوگوں کے پاس جمع ہوں وہ ان کے ليے خدا کی طرف بڑھنے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں ۔ خدا کا محبوب بندہ وہ ہے جو کسی تحفظ اور کسی مصلحت کے بغیر خدا کی طرف بڑھے۔ مگر جو لوگ دنیا کی رونقوں میں گھرے ہوئے ہوں وہ ان سے اوپر نہیں اٹھ پاتے جب بھی وہ خدا کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں ان کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ اپنا سب کچھ کھو دیں گے۔ وہ اس قربانی کی ہمت نہیں کرپاتے، اس ليے وہ خدا کے وفادار بھی نہیں ہوتے۔ ان کی دنیوی ترقیاں ان کو اس بربادی کی قیمت پر ملتی ہیں کہ آخرت میں وہ بالکل محروم ہوکر حاضر ہوں ۔
ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب خدا کا دین کہتا ہے کہ اپنی اَنا (ego)کو دفن کرکے خدا کو پکڑو تو وہ اپنی بڑھی ہوئی اَنا کو دفن نہیں کرپاتے۔ جب خدا کا دین ان سے شہرت اور مقبولیت سے خالی راستوں پر چلنے کے ليے کہتا ہے تو وہ اپنی شہرت ومقبولیت کو سنبھالنے کی فکر میں پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ جب خدا كے دين کی جدوجہد، زندگی اور مال کی قربانی مانگتی هے تو ان کو اپنی زندگی اور مال اتنے قیمتی نظر آتے ہیں کہ وہ اس کو غیر دنیوی مقصد کے ليے قربان نہ کرسکیں ۔
یہ کیفیت بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ ان کے دل کی حساسیت ختم ہوجاتی ہے۔ وہ بے حسی کا شکار ہو کر اس تڑپ کو کھو دیتے ہیں جو آدمی کو خدا کی طرف کھینچے اور غیر خدا پر راضی نہ ہونے دے۔
اس کے برعکس، جو سچے اہلِ ایمان ہیں وہ سب سے بڑا مقام خدا کو ديے ہوئے ہوتے ہیں ۔ اس ليے دوسری ہر چیزانھیں خدا کے مقابلے میں ہیچ نظر آتی ہے۔ وہ ہر قربانی دے کر خدا کی طرف بڑھنے کے ليے تیار رہتے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے ليے خدا کی رحمتیں اور نعمتیں ہیں ۔ ان کے اور خدا کی ابدی جنت کے درمیان موت کے سوا کوئی چیز حائل نہیں ۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →