وَمِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مَن يَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ مَغۡرَمٗا وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ ٱلدَّوَآئِرَۚ عَلَيۡهِمۡ دَآئِرَةُ ٱلسَّوۡءِۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٞ
And among the bedouins are some who consider what they spend as a loss and await for you turns of misfortune. Upon them will be a misfortune of evil. And Allah is Hearing and Knowing
A tradition of the Prophet says, ‘One who settles in a village will become hard in nature.’ There is an intellectual atmosphere in a city; educational institutes are established there, discussion of learning and the arts is a regular feature of city life, whereas the people in villages do not have these opportunities for self-improvement. Moreover, their manner of living and the means of their livelihood are also inferiror in comparison. Consequently, a deep and mature consciousness does not develop in these people of the countryside. There is harshness in their temperament and superficiality in their thinking. They find it difficult to understand the dialectics of religion and cannot absorb its truth. God is aware of everything; at the same time He is Wise and Merciful also. He is fully aware of this weakness on the part of country people (villagers), or in other words, the general public, and in His wisdom and Mercy allows them full latitude on this account. Therefore, God does not demand from them deep realisation (ma‘rifah) or a high level of religiosity. If they are well-intentioned, God will accept their simple faith.
حدیث میں آیا ہے کہ جس نے دیہات میں سکونت اختیار کی وہ سخت مزاج ہوجائے گا (مَنْ سَكَنَ البَادِيَةَ جَفَا) سنن الترمذی، حدیث نمبر 2256۔ شہر کے اندر علمی ماحول ہوتا ہے، تعلیمی ادارے قائم ہوتے ہیں ۔ وہاں علم وفن کا چرچا رہتا ہے۔ جب کہ دیہات میں لوگوں کو اس کے مواقع حاصل نہیں ہوتے۔ اسی کے ساتھ دیہات کے لوگوں کے رہن سہن کے طریقے اور ان کے معاشی ذرائع بھی نسبتاً معمولی ہوتے ہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دیہات کے لوگوں کے اندر زیادہ گہرا شعور پیدا نہیں ہوتا۔ ان کی طبیعت میں سختی اور ان کے سوچنے کے انداز میں سطحیت پائی جاتی ہے۔ ان کے ليے مشکل ہوتا ہے کہ وہ دین کی نزاکتوں کو سمجھیں اور ان کو اپنے اندر اتاریں ۔
اللہ ہر بات کو جانتا ہے اور اسی کے ساتھ وہ حکیم اور رحیم بھی ہے۔ وہ دیہات کے لوگوں ، بالفاظ دیگر عوام، کی اس کمزوری سے باخبر ہے اور اپنی حکمت ورحمت کی بنا پر انھیں اس کی پوری رعایت دیتاہے۔ چنانچہ ایسے لوگوں سے خدا کا مطالبہ یہ نہیں ہے کہ وہ گہری معرفت اور اعلیٰ دین داری کا ثبوت دیں ۔ وہ اگر نیک نیت ہوں تو خدا ان سے سادہ دین داری پر راضی ہوجائے گا۔
عوام کی دین داری یہ ہے کہ وہ سچے دل سے خدا کا اقرار کریں ۔ اپنے اندر اس احساس کو تازہ رکھیں کہ آخرت کا ایک دن آنے والا ہے۔ وہ اپنی کمائی کا ایک حصہ خدا کی راہ میں دیں اور یہ سمجھیں کہ اس کے ذریعہ سے انھیں خدا کی قربت اور برکت حاصل ہوگی۔ وہ خدا کی نمائندگی کرنے والے پیغمبر کو خوش کرکے اس کی دعائیں لینے کے طالب ہوں ۔ یہ دین داری کی عوامی سطح ہے، اور اگر آدمی کی نیت میں بگاڑ نہ ہو تو اس کا خدا اس سے اسی سادہ دین داری کو قبول کرلے گا۔
لیکن اگر عوام ایسا کریں کہ وہ خدااور اس کے احکام سے بالکل غافل ہوجائیں ، ان کو دین سے اتنی بے تعلقی ہو کہ دین کی راہ میں کچھ خرچ کرنا ان کو جرمانہ معلوم ہونے لگے، اسلام کی ترقی سے انھیں وحشت ہوتی ہو تو بلاشبہ وہ ناقابل معافی ہیں ۔ عوام کی کم فہمی کی بنا پر ان کو یہ رعایت تو ضرور دی جاسکتی ہے کہ ان سے گہری دین داری کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ لیکن ان کی کم فہمی اگر سرکشی اور اسلام کے ساتھ بے وفائی کی صورت اختیار کرلے تو وہ کسی حال میں بخشے نہیں جاسکتے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →