إِنَّ فِي ٱخۡتِلَٰفِ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَّقُونَ
Indeed, in the alternation of the night and the day and [in] what Allah has created in the heavens and the earth are signs for a people who fear Allah
God has revealed the realities of the Hereafter by means of symbols. Similarly, in the present world, God reveals Himself in the form of arguments, and not as a tangible manifestation. So, we can find God only in the manner and shape in which He reveals Himself and not in any other form. In this world, God has offered mankind His guidance. But only those who are ready to follow it according to the godly plan, are destined to receive this guidance. Only those who are ready to understand the truth presented in the language of reason and accept it will be inspired to tread the right path. Those who do not bow down before true argument fail to bow down, as it were, before God; it is like not accepting God. Such people may expect nothing but Hell as their reward. In the heavens and on the earth, there are countless signs which become the elements of a lesson for those who are God-fearing. Fear, or apprehension, is a thing which makes a man serious. Unless a man is serious, he will not pay full attention to matters of importance and will not understand their various aspects. The whole universe is held together in a creative balance. This is a clear indication of the fact that the Lord of the universe is One who has absolute power over man. Similarly, the initial life which we are now experiencing provides clear proof of the fact that a second life is also possible. The appearance of material results in the present world and the non-appearance of moral results warrants the taking shape of another world where the moral results will be clearly in evidence. This is an unassailable truth, but this can be grasped only by one who looks at life in fear and apprehension.
سورج ہماری زمین سے نہایت درست فاصلہ پر قائم ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ ہمارے لیے روشنی اور حرارت جیسی نعمتوں کا خزانہ بناہوا ہے۔ اگر اس انداز ہ میں فرق ہوجائے تو سورج ہمارے لیے سورج نہ رہے بلکہ آگ کي جہنم بن جائے، وہ زندگی کے بجائے موت کا پیغام ثابت ہو۔ چاند ایک حد درجہ ریاضیاتی حساب کے مطابق اپنے مدار پر ٹھیک ٹھیک گردش کرتاہے۔ اسی بنا پر یہ ممکن ہوتاہے کہ چاند بذات خود بے نور ہونے کے باوجود ہمارے لیے نہ صرف ٹھنڈی روشنی دے بلکہ مہینہ اور سال کی قدرتی تقویم بھی فراہم کرے۔ یہ فلکیاتی نشانیاں ثابت کرتی ہیں کہ اس کائنات میں گہری مقصدیت ہے، اور مقصدیت والی کائنات کا آخری انجام بے مقصد نہیں ہوسکتا۔
پھر ہماری دنیا میں رات کے بعد دن کا آنا مادی تمثیل کی زبان میں اس اخلاقی حقیقت کو بتا رہا ہے کہ موجودہ دنیا میں یہ قانون نافذ ہے کہ تاریکی کے بعد روشنی پھیلے، اندھیرے کے بعد اجالے کا ظہور ہو۔ یہاں حقوق کی پامالی کے بعد حقوق کی ادائیگی کا نظام آنے والا ہے۔ انسان کی سرکشی کی جگہ خدائی انصاف کو غلبہ ملنے والا ہے۔ یہاں اس وقت کا آنا مقدر ہے جب کہ دھاندلی ختم ہواور حق کے اعتراف کا ماحول چاروں طرف قائم ہو جائے۔
آخرت کی حقیقتوں کو خدا نے نشانیوں کے انداز میں ظاہر کیا ہے۔بالفاظ دیگر، خدا موجودہ دنیا میں دلیل کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے، نہ کہ محسوس مشاہدہ کے روپ میں۔ پھر خدا جس روپ میں اپنا جلوہ دکھاتا ہے اسی روپ میں ہم اس کو پاسکتے ہیں ،نہ کہ کسی اور روپ میں۔
خدا نے اس دنیا میں ہدایت کے راستے کھول رکھے ہیں مگر یہ ہدایت انھیں کا مقدر ہے جو خدائی نقشہ کے مطابق اس کی پیروی کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہاں وہی لوگ صحیح راستہ پر چلنے کی توفیق پائیں گے جو دلیل کی زبان میں بات کو سمجھنے اور ماننے کے لیے تیار ہوں۔ جو لوگ سچی دلیل کے آگے نہ جھکیں وہ گویا خدا کے آگے نہیں جھکے۔ انھوں نے خدا کو نہیں مانا۔ ایسے لوگوں کو اپنے لیے جہنم کے سوا کسی اور چیز کا انتظار نہ کرنا چاہیے۔
زمین و آسمان میں اگر چہ بے شمار نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں مگر وہ انھیں لوگوں کے لیے سبق بنتی ہیں جو ڈر رکھنے والے ہیں۔ ڈریا اندیشہ وہ چیز ہے جو آدمی کو سنجیدہ بناتا ہے۔ جب تک آدمی کسی معاملہ میں سنجیدہ نہ ہو وہ اس معاملہ پر پورا دھیان نہیں دے گا اور نہ اس کے پہلوؤں کو سمجھے گا— پوری کائنات ایک زبردست تخلیقی توازن میں جکڑی ہوئی ہے۔ یہ اس بات کا کھلا ہوا اشارہ ہے کہ کائنات کا مالک ایسا مالک ہے جو انسان کو پکڑنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اسی طرح پہلی زندگی جس کا ہم تجربہ کر رہے ہیں وہ اس کا یقینی ثبوت ہے کہ دوسری زندگی بھی ممکن ہے۔ موجودہ دنیا میں مادی نتائج کا نکلنا مگر اخلاقی نتائج کا نہ نکلنا تقاضا کرتاہے کہ ایک اور دنیا بنے جہاں اخلاقی نتائج اپنی پوری صورت میں ظاہر ہوں۔ یہ سب انتہائی محکم باتیں ہیں مگر ان کا محکم ہونا وہی شخص جانے گا جو اندیشہ کی نفسیات کے تحت زندگی کے معاملہ کو دیکھتا ہو۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →