إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ يَهۡدِيهِمۡ رَبُّهُم بِإِيمَٰنِهِمۡۖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهِمُ ٱلۡأَنۡهَٰرُ فِي جَنَّـٰتِ ٱلنَّعِيمِ
Indeed, those who have believed and done righteous deeds - their Lord will guide them because of their faith. Beneath them rivers will flow in the Gardens of Pleasure
Literally, ‘On account of their faith, God will lead them towards the goal of Paradise.’ This shows that Faith is guidance for man; it prevents him from taking wrong paths and makes him tread the right way until it leads him to the real goal. Faith is discovery of God. The thread of knowledge comes within the grasp of one who is blessed with faith. He becomes capable of starting his thinking from the right place on all matters. Never allowing his thoughts to err, he attains correctness in his thinking. Furthermore, belief in God is not simply acceptance of a bookish philosophy; it is belief in God Who is alive and Who is going to finally assemble all human beings before Him to take a final reckoning. In this way, Faith inculcates in man a sense of anxiety or apprehension about his future fate and this makes him extremely serious. He is forced to look at all his actions in the light of their being right or wrong, so that he may adopt only the right direction. In this way, Faith provides man with the right way of thinking as well as the power to distinguish between right and wrong, which acts as his permanent practical guide. The Paradise of the Hereafter is for those who have, in this world, proved themselves to be deserving of it. The Hereafter is a place where one will directly experience and become directly immersed in the glories of God. So, the opportunity to live in Paradise will be given only to those who, in this world, had immersed themselves in the indirect manifestations of the glories of God. In the Hereafter, human hearts will be full of well-wishing and peace-desiring for each other. So, only those who, in this world had proved that in their hearts they had only such feelings for others, will find their abode in Paradise.
جہنم کس کے لیے ہے — ان لوگوں کے لیے جو اس دن کو بھولے ہوئے ہوں جب کہ خدا سے ان کا سامنا ہوگا۔ جو آخرت کی ابدی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا کی عارضی چیزوں پر راضی ہوگئے ہوں۔ جن کا یہ حال ہو کہ دنیا میںانھیں جو کچھ امتحان کے طورپر ملا ہے اسی پر وہ مطمئن ہوجائیں۔ جو غیر خدائی چیزوں میںاتنا دل لگالیں کہ خدا کی طرف سے ظاہر کی جانے والی حقیقتوں سے غافل ہوجائیں۔ یہ سب خدا کے نزدیک جہنمی راستوں میں چلنا ہے، اور جو لوگ جہنمی راستوں میں چل رہے ہوں وہ آخر کار جہنم کے سوا اور کہاں پہنچیں گے۔
’’اللہ انھیں ان کے ایمان کی وجہ سے جنت کی منزل تک پہنچائے گا‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان آدمی کے لیے رہنمائی ہے۔ وہ آدمی کو غلط راہوں سے بچا کر صحیح راستہ پر چلاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کو حقیقی منزل تک پہنچا دیتاہے۔
ایمان خدا کی دریافت ہے۔ جس آدمی کو ایمان حاصل ہوجائے اس کو علم کا سرا ہاتھ آجاتا ہے، وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ ہر معاملہ میں صحیح مقام سے اپنی سوچ کاآغاز کرسکے۔ وہ فکری بے راہ روی سے بچ کر فکری صحت کا مالک بن جائے۔ مزید یہ کہ خدا کو ماننا کسی کتابی فلسفہ کو ماننا نہیں ہے۔ یہ ایک زندہ خدا کو ماننا ہے جو بالآخر تمام انسانوں کو اپنے یہاں جمع کرکے ان کا حساب لینے والا ہے۔ اس طرح ایمان آدمی کے اندر اپنے انجام کے بارے میں اندیشہ کی کیفیت پید کرکے اس کو انتہائی سنجیدہ انسان بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے کو مجبور پاتا ہے کہ اپنی تمام کارروائیوں کو صحیح اور غلط کی روشنی میں دیکھے اور صرف صحیح رخ پر چلے اور غلط رخ پر چلنے سے ہمیشہ پرہیز کرے۔
اس طرح ایمان آدمی کو صحیح فکر بھی دیتا ہے اور اسی کے ساتھ وہ قوت تمیز بھی جو اس کے لیے مستقل عملی رہنما بن جائے۔
آخرت کی جنت ان لوگوں کے لیے ہے جنھوں نے دنیا میں اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کیا ہو۔ آخرت خدا کے براہِ راست جلوؤں میں سرشار ہونے کا مقام ہے، وہاں بسنے کا موقع صرف ان لوگوں کو ملے گا جو دنیا میں خداکے بالواسطہ جلوؤں سے سرشار ہوئے تھے۔ آخرت میں لوگوں کے دل ایک دوسرے کے لیے سلامتی اور خیر خواہی کے جذبات سے بھرے ہوئے ہوں گے، اس لیے وہاں کی آبادی میںوہی لوگ جگہ پائیں گے جنھوں نے دنیا میں اس بات کا ثبوت دیا تھا کہ دوسروں کے لیے ان کے دل میں سلامتی اور خیر خواہی کے سوا کوئی دوسرا جذبہ نہیں۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →