وَمِنۡ حَيۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡهَكَ شَطۡرَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِۚ وَحَيۡثُ مَا كُنتُمۡ فَوَلُّواْ وُجُوهَكُمۡ شَطۡرَهُۥ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيۡكُمۡ حُجَّةٌ إِلَّا ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنۡهُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ وَٱخۡشَوۡنِي وَلِأُتِمَّ نِعۡمَتِي عَلَيۡكُمۡ وَلَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُونَ
And from wherever you go out [for prayer], turn your face toward al-Masjid al-Haram. And wherever you [believers] may be, turn your faces toward it in order that the people will not have any argument against you, except for those of them who commit wrong; so fear them not but fear Me. And [it is] so I may complete My favor upon you and that you may be guided
When the Ka‘bah in Makkah was appointed as the prayer direction, or qiblah, the People of the Book started discussing whether the East was God’s direction or the West. They saw the matter as one of direction alone, but this was nothing other than sheer ignorance on their part. The selection of the House of God as the qiblah was not merely the specification of a certain direction for prayer; it was a sign that the time had come for God to reveal His greatest favour to man. It had been decided a long time ago, that, in answer to the prayer of Abraham and Ishmael (see 2:129), God would send a final Prophet to the world. The path to life everlasting was now being thrown open to all: God was showing His ultimate favour to mankind. The bringing of religion to its final stage of perfection in Islam does not mean that previous religions were incomplete. They too were complete in themselves, but none of them was preserved in its original and authentic form. God had revealed true religion time and time again, but on each occasion mankind had rebelled against it and either distorted it or allowed it to fall into oblivion. Now it was revealed in its ultimate and indelible form. Divine religion that had deteriorated into a set of mythological tales was now incorporated into history in the form of solid facts. Up till then, no pattern of true religion had been preserved for posterity; now, it was placed before mankind in a permanent, living and practical form. The change of qiblah, rather than denoting a change from one direction of worship to another, more sacred one, showed the completion of God’s guidance to mankind.
کعبہ کو قبلہ مقرر کیاگیا تو زوال یافتہ ذہن رکھنے والے یہود یوں اور عیسائیوں نے اس قسم کی بحثیں چھیڑ دیں کہ مغرب کی سمت خدا کی سمت ہے یا مشرق کی سمت۔ وہ اس مسئلہ کو بس رخ بندی کے مسئلہ کی حیثیت سے دیکھ رہے تھے۔مگر یہ ان کی ناسمجھی تھی۔ کعبہ کو قبلہ مقرر کرنے کا معاملہ سادہ طورپر ایک عبادتی رخ مقرر کرنے کا معاملہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک علامت تھی کہ اللہ کے بندوں کے لیے اس سب سے بڑے خیر کے اترنے کا وقت آگیا ہے جس کا فیصلہ بہت پہلے کیا جاچکا تھا۔ یہ ابراہیم واسماعیل (علیہما السلام) کی دعا کے مطابق نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہے۔ اب وہ آنے والا آگیاہے جو انسان کے اوپر اللہ کی ابدی ہدایت کا دروازہ کھولے اور اس کی نعمتِ ہدایت کو آخری حد تک کامل کردے — جو دین اللہ کی طرف سے بار بار بھیجا جاتا رہا مگر انسانوں کی غفلت وسرکشی سے ضائع ہوتا رہا، اس کو اس کی كامل شكل میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کردے۔ خدا کا دین جو اب تک محض روایتی افسانہ بنا ہوا تھا اس کو ایک حقیقی واقعہ کی حیثیت سے انسانی تاریخ میں شامل کردے۔ وہ دین جس کا کوئی مستقل نمونہ قائم نہیں ہوسکا تھا اس کو ایک زندہ عملی نمونے کی حیثیت سے لوگوں کے سامنے رکھ دے۔ یہ ہدایت الٰہی کی تکمیل کا معاملہ ہے، نہ کہ مختلف سمتوں میں سے کوئی زیادہ ’’مقدس سمت‘‘ مقرر کرنے کا۔
کعبہ کی تعمیر کے وقت ہی یہ مقدر ہوچکا تھا کہ آخری رسول کے ذریعہ جس دین کا ظہور ہوگا اس کا مرکز کعبہ ہوگا ۔پچھلے انبیاء لوگوں کو مسلسل اس کی خبر دیتے رہے۔ اس طرح اللہ کی طرف سے کعبہ کو تمام قوموں کے لیے قبلہ مقرر کرنا گویا نبی آخر الزماں کی حیثیت کو ثابت شدہ بنانا تھا۔ اب جو سنجیدہ لوگ ہیں ان کے لیے اللہ کا یہ اعلان آخری حجت ہے، اور جو لوگ آخرت سے بے خوف ہیں ان کی زبان کوکوئی بھی چیز روکنے والی ثابت نہیں ہوسکتی۔ جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہی ہدایت کا راستہ پاتے ہیں۔ اللہ کو یاد رکھنا ہی کسی کو اس کا مستحق بناتا ہے کہ اللہ اس کو یاد رکھے۔ اللہ سے خوف رکھنا ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ اللہ اس کو دوسری تمام چیزوں سے بےخوف کردے۔