كَمَآ أَرۡسَلۡنَا فِيكُمۡ رَسُولٗا مِّنكُمۡ يَتۡلُواْ عَلَيۡكُمۡ ءَايَٰتِنَا وَيُزَكِّيكُمۡ وَيُعَلِّمُكُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمۡ تَكُونُواْ تَعۡلَمُونَ
Just as We have sent among you a messenger from yourselves reciting to you Our verses and purifying you and teaching you the Book and wisdom and teaching you that which you did not know
It was at the time of the construction of the Ka‘bah that Abraham and Ishmael prayed for a prophet to be born among the people of Makkah. The prayer was answered, and the coming of the final prophet, whose focus would be Makkah, was decreed. God’s messengers who came to the world used to prophesy his coming. Now that he had come, the Ka‘bah in Makkah was made the prayer direction for all nations. This was God’s sign, indicating that the prophet, whose coming had been anticipated, had finally arrived. As for the sincere—they needed no further proof, but even the conclusiveness of this sign was not enough to silence those who gave no thought to God. It is those who fear God who are guided on the path to Him. God remembers those who remember Him. Only those who are filled with fear of Him are free of fear of all else besides Him.
کعبہ کو قبلہ مقرر کیاگیا تو زوال یافتہ ذہن رکھنے والے یہود یوں اور عیسائیوں نے اس قسم کی بحثیں چھیڑ دیں کہ مغرب کی سمت خدا کی سمت ہے یا مشرق کی سمت۔ وہ اس مسئلہ کو بس رخ بندی کے مسئلہ کی حیثیت سے دیکھ رہے تھے۔مگر یہ ان کی ناسمجھی تھی۔ کعبہ کو قبلہ مقرر کرنے کا معاملہ سادہ طورپر ایک عبادتی رخ مقرر کرنے کا معاملہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک علامت تھی کہ اللہ کے بندوں کے لیے اس سب سے بڑے خیر کے اترنے کا وقت آگیا ہے جس کا فیصلہ بہت پہلے کیا جاچکا تھا۔ یہ ابراہیم واسماعیل (علیہما السلام) کی دعا کے مطابق نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہے۔ اب وہ آنے والا آگیاہے جو انسان کے اوپر اللہ کی ابدی ہدایت کا دروازہ کھولے اور اس کی نعمتِ ہدایت کو آخری حد تک کامل کردے — جو دین اللہ کی طرف سے بار بار بھیجا جاتا رہا مگر انسانوں کی غفلت وسرکشی سے ضائع ہوتا رہا، اس کو اس کی كامل شكل میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کردے۔ خدا کا دین جو اب تک محض روایتی افسانہ بنا ہوا تھا اس کو ایک حقیقی واقعہ کی حیثیت سے انسانی تاریخ میں شامل کردے۔ وہ دین جس کا کوئی مستقل نمونہ قائم نہیں ہوسکا تھا اس کو ایک زندہ عملی نمونے کی حیثیت سے لوگوں کے سامنے رکھ دے۔ یہ ہدایت الٰہی کی تکمیل کا معاملہ ہے، نہ کہ مختلف سمتوں میں سے کوئی زیادہ ’’مقدس سمت‘‘ مقرر کرنے کا۔
کعبہ کی تعمیر کے وقت ہی یہ مقدر ہوچکا تھا کہ آخری رسول کے ذریعہ جس دین کا ظہور ہوگا اس کا مرکز کعبہ ہوگا ۔پچھلے انبیاء لوگوں کو مسلسل اس کی خبر دیتے رہے۔ اس طرح اللہ کی طرف سے کعبہ کو تمام قوموں کے لیے قبلہ مقرر کرنا گویا نبی آخر الزماں کی حیثیت کو ثابت شدہ بنانا تھا۔ اب جو سنجیدہ لوگ ہیں ان کے لیے اللہ کا یہ اعلان آخری حجت ہے، اور جو لوگ آخرت سے بے خوف ہیں ان کی زبان کوکوئی بھی چیز روکنے والی ثابت نہیں ہوسکتی۔ جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہی ہدایت کا راستہ پاتے ہیں۔ اللہ کو یاد رکھنا ہی کسی کو اس کا مستحق بناتا ہے کہ اللہ اس کو یاد رکھے۔ اللہ سے خوف رکھنا ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ اللہ اس کو دوسری تمام چیزوں سے بےخوف کردے۔