وَمَن يَكۡسِبۡ إِثۡمٗا فَإِنَّمَا يَكۡسِبُهُۥ عَلَىٰ نَفۡسِهِۦۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمٗا
And whoever commits a sin only earns it against himself. And Allah is ever Knowing and Wise
This world is a place of trial. Everyone may commit mistakes here, both with regard to God as well as to His servants. When someone errs, the right course is that he should sincerely repent and seek the guidance of God, beg for His forgiveness and pray to be assisted to perform only virtuous deeds in future. One who seeks God’s shelter so sincerely, will certainly receive it from Him. By the grace of God, his religious sensibility will be sharpened and he will be enabled to live more prudently in this world. On the other hand, a person may do some wrong, but does not care to admit it; he rather attempts to justify himself. He then gathers his supporters and fights with those who simply intended to inform him of his mistake. Such arrogant, un-repentant individuals and their supporters are the worst criminals in the eyes of God. Their eloquence, used to hide their wrongs, will become meaningless, and the host of supporters, who propped up their arrogance, will be of no avail in the Hereafter.
دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ یہاں ہر آدمی سے غلطي ہوسکتی ہے۔ خدا کے معاملہ میں بھی اور بندوں کے معاملہ میں بھی۔ جب کسی سے کوئی غلطی ہوجائے تو صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی غلطی پر شرمندہ ہو۔ وہ اللہ کی طرف اور زیادہ توجہ کے ساتھ دوڑے۔ وہ اللہ سے درخواست کرے کہ وہ اس کی غلطی کو معاف کردے اور آئندہ کے لیے اس کو نیکی کی توفیق دے۔ جو شخص اس طرح اللہ کی پناہ چاہے تو اللہ بھی اس کو اپنی پناہ میں لے لیتاہے۔ اللہ اس کے دینی احساس کو بیدار کرکے اس کو اس قابل بنادیتا ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ محتاط ہو کر دنیا میں رہنے لگے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی جب غلطی کرے تو وہ غلطی کو ماننے کے لیے تیار نہ ہو۔ بلکہ اپنی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش میں لگ جائے۔ وہ اپنے ساتھیوں کی حمایت سے خود ان لوگوں سے لڑنے لگے جو اس کی غلطی سے اس کو آگاہ کررہے ہیں۔ جو لوگ اپنی غلطی پر اس طرح اکڑتے ہیں اور جو لوگ ان کا ساتھ دیتے ہیں وہ خدا کے نزدیک بدترین مجرم ہیں۔ وہ اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لیے جن الفاظ کا سہارا لیتے ہیں وہ آخرت میں بالکل بے معنی ثابت ہوں گے اور جن حمایتیوں کے بھروسے پر وہ گھمنڈ کررہے ہیں وہ بالآخر جان لیں گے کہ وہ کچھ بھی ان کے کام آنے والے نہ تھے۔
ایک شخص کسی کا مال چرائے اور جب پکڑے جانے کا اندیشہ ہو تو اس کو دوسرے کے گھر میں رکھ کر کہے کہ فلاں نے اس کو چرایا تھا۔ ایک شخص کسی عورت کو اپنی ہوس کا نشانا بنانا چاہے اور جب وہ پاک دامن خاتون اس کا ساتھ نہ دے تو وہ جھوٹے افسانے گھڑ کر اس خاتون کو بدنام کرے۔ دو آدمی مل کر ایک کام شروع کریں۔ اس کے بعد ایک شخص کو محسوس ہو کہ اس کی ذاتی مصلحتیں مجروح ہورہی ہیں، وہ تدبیر کرکے اس کام کو بند کرادے اور اس کے بعد مشہور کرے کہ اس کے بند ہونے کی ذمہ داری فریق ثانی کے اوپر ہے۔ یہ سب اپنا جرم دوسرے کے سر ڈالنے کی کوششیں ہیں۔ مگر ایسی کوششیں صرف آدمی کے جرم کو بڑھاتی ہیں، وہ اس کو بری الذمہ ثابت نہیں کرتیں۔ اللہ کا سب سے بڑا فضل یہ ہے کہ وہ ہدایت کے دروازے کھولے۔ وہ آدمی کو سمجھائے کہ غلطی کرنے کے بعد اپنی غلطی کو مان لو، نہ کہ بحث کرکے اپنے کو صحیح ثابت کرو۔کسی سے معاملہ پڑے تو ساتھیوں کے بل پر گھمنڈ نہ کرو بلکہ اللہ سے ڈر کر تواضع کا انداز اختیار کرو۔ کسی کے خلاف کارروائی کرنے کا موقع مل جائے تو اپنے کو کامیاب سمجھ کر خوش نہ ہو بلکہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تم کو ظالم بننے سے بچائے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →