يُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمۡۚ وَخُلِقَ ٱلۡإِنسَٰنُ ضَعِيفٗا
And Allah wants to lighten for you [your difficulties]; and mankind was created weak
There is nothing new about the moral standards laid down in the Quran. In every age God has been proclaiming them through His messengers and believing people in every age have followed them. But since the ancient heavenly books could not remain untampered with, the divine modes of living were consequently lost or obscured. God, however, revealed them again in the Arabic language through His final Messenger. Today, when any group of people follows them, it joins that eternal caravan of righteous humanity which, favoured with the grace of God, adhered steadfastly to the divine path. In every group of people certain traditions become rooted as a matter of centuries-old practice and people become too accustomed to them to think of them critically. When an original thinker tries to bring in social reform, he is bitterly opposed by traditionalists. They find it difficult to leave their familiar ways and adopt unfamiliar ones. They become hostile to any effort at reformation which would distance them from the ways of their forefathers. In such cases the reaction of the religious class is by far the strongest. When the core of a religion becomes weak, it is vitiated by hair-splitting arguments, and a structure of elaborate rules based on form is built up. Devoid of the real spirit, people keep following the old rituals, thinking that they are adhering to the religion of God. This religion of human creation is gradually identified with their forefathers and becomes sacred. Ultimately, the simple and natural religion of God is so heavily veiled that it becomes difficult to recognize it as the original religion. The situation being such, any movement for the revival of the simple and natural religion faces bitter opposition; people find their ritualistic dogma threatened and negated by it. Those whose dogma is based on self-styled faith viciously oppose any effort to revive God’s simple and straightforward religion, because they anticipate that such an effort may lead to the end of their dominance and leadership.
زندگی کے طریقے جو قرآن میں بتائے گئے ہیں وہ کوئی نئے نہیں ہیں۔ ہر دور میں اللہ اپنے پیغمبروں کے ذریعہ ان کا اعلان کراتا رہا ہے۔ ہر زمانہ کے خدا پرست لوگوں کا اسی پر عمل تھا۔ مگر قدیم آسمانی کتابوں کے محفوظ نہ رہنے کی وجہ سے یہ طریقے گم ہوگئے۔ اب اللہ نے اپنے آخری رسول کے ذریعہ ان کو عربی زبان میں اتارا اور ان کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا۔ آج جب کوئی گروہ ان طریقوں پر اپنی زندگی کو ڈھالتا ہے تو گویا وہ صالحین کے اس ابدی قافلہ میں شامل ہوجاتا ہے جن کو اللہ کی رحمتوں میں حصہ ملا، جو ہر زمانہ میں اللہ کے اُس راستہ پر چلے جس کو اللہ نے اپنے وفادار بندوں کے لیے کھولا تھا۔
ہر انسانی گروہ میں ایسا ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں صدیوں کے رواج سے جڑ جمالیتی ہیں۔ وہ لوگوں کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتی ہیں کہ ان کے خلاف سوچنا مشکل ہوجاتا ہے۔ جب اللہ کا کوئی بندہ معاشرتی اصلاح کا کام شروع کرتا ہے تو اس قسم کے لوگ چیخ اٹھتے ہیں۔ اپنے مانوس طریقوں کو چھوڑ کرنامانوس طریقوں كو اختيار كرنا ان كے ليے سخت دشوار هوجاتا هے۔ وه ايسي اصلاحي تحريك كے دشمن بن جاتے هيں، جو ان كو ان كے باپ داداكے طريقوں سے ہٹانا چاہتی ہو۔ اس سلسلہ میں مذہبی طبقہ کاردعمل اور بھی زیادہ شدید ہوتا ہے۔ جب دین کا اندرونی پہلو کمزور ہوتا ہے تو خارجی موشگافیاں جنم لیتی ہیں۔ اب آداب وقواعد کا ایک ظاہری ڈھانچہ بنا لیا جاتا ہے۔ لوگ دین کی اصلی کیفیات سے خالی ہوتے ہیںاور ظاہری آداب وقواعد کی پابندی کرکے سمجھتے ہیں کہ وہ خدا کے دین پر قائم ہیں۔ یہ خود ساختہ دین اسلاف سے منسوب ہو کر دھیرے دھیرے مقدس بن جاتا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ خدا کا سادہ اور فطری دین ان کو اجنبی معلوم ہوتا ہے، اور اپنا جکڑ بندیوں والا دین عین برحق نظرآتا ہے۔ ایسی حالت میں جو تحریک اصلی اور ابتدائی دین کو زندہ کرنے کے لیے اٹھے وہ اس کے شدید مخالف بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ اس ميں ان کو اپنی دین داری کی نفی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مثلاً خدا کی شریعت میں حیض کے زمانہ میں عورت کے ساتھ مباشرت ناجائز ہے، اس کے علاوہ دوسرے تعلقات اسی طرح رکھے جاسکتے ہیں جس طرح عام دنوںمیں ہوتے ہیں۔ یہودیوں نے اس سادہ حکم پر اضافہ کرکے یہ مسئلہ بنایا کہ ایام ماہواری میں عورت کی پکائی ہوئی چیز کو کھانا، اس کے ہاتھ کا پانی پینا، اس کے ساتھ ایک جگہ بیٹھنا، اس کو اپنے ہاتھ سے چھونا، سب ناجائز یا کم ازکم تقویٰ کے خلاف ہے۔ اس طرح حائضہ عورت سے مکمل دوری گویا پارسائی کی علامت بن گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں جب خدا کی اصلی شریعت کو زندہ کیا تو یہودی بگڑ گئے۔ وہ چیز جس پر انھوں نے اپنی پارسائی کی عمارت کھڑی کی تھی دفعۃً گرتی ہوئی نظر آئی — خدا کے سادہ دین کو جب بھی زندہ کیا جائے تو وہ لوگ اس کے سخت مخالف ہوجاتے ہیں،جو بناوٹی دین کے اوپر اپنی دین داری کی عمارت کھڑی كيے ہوئے ہوں۔ یہ ان سے سرداری چھیننے کے ہم معنی ہوتا ہے اور سرداری کا چھننا کوئی برداشت نہیں کرتا۔