ٱلرِّجَالُ قَوَّـٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بَعۡضَهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ وَبِمَآ أَنفَقُواْ مِنۡ أَمۡوَٰلِهِمۡۚ فَٱلصَّـٰلِحَٰتُ قَٰنِتَٰتٌ حَٰفِظَٰتٞ لِّلۡغَيۡبِ بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُۚ وَٱلَّـٰتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَٱهۡجُرُوهُنَّ فِي ٱلۡمَضَاجِعِ وَٱضۡرِبُوهُنَّۖ فَإِنۡ أَطَعۡنَكُمۡ فَلَا تَبۡغُواْ عَلَيۡهِنَّ سَبِيلًاۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيّٗا كَبِيرٗا
Men are in charge of women by [right of] what Allah has given one over the other and what they spend [for maintenance] from their wealth. So righteous women are devoutly obedient, guarding in [the husband's] absence what Allah would have them guard. But those [wives] from whom you fear arrogance - [first] advise them; [then if they persist], forsake them in bed; and [finally], strike them. But if they obey you [once more], seek no means against them. Indeed, Allah is ever Exalted and Grand
A good woman is one who, conducting herself according to God’s plan, accepts the role of man as leader. Similarly, a good man is one who, discharging his role, does not forget that God is always watching him. The divine court of judgement does not differentiate between man and woman. The gender-based difference is meant only to ensure the effective management of worldly life and bears no relation to the requital and rewards of the Hereafter. Man should try to discharge all his responsibilities towards woman, and if there is such a woman who does not recognize the administrative capacity of the man, it must not lead to a revengeful attitude in the man, nor should he start maligning her with allegations. However, under specific circumstances, if the man finds her guilty of immoral conduct, he should try to reform her. The process of this reform has to start with counselling, then if need be, he may cease to talk to and relate with her and lastly, he may reprove her with light punishment. When two persons have differences between them, their minds become prejudiced. They do not think about each other objectively. In such a situation, the best way of resolving the matter is to bring in an arbiter who is not involved with the issue personally, and who will be able to think without bias and reach a decision based on the facts of the case.
جہاں بھی آدمیوں کا کوئی مجموعہ ہو، خواہ وہ خاندان کی صورت میں ہو یا مملکت کی صورت میں، ضروری ہے کہ اس کے اوپر سردار اور سربراہ ہو، اور یہ سربراہ لازماً ایک ہی ہوسکتا ہے۔ دنیا کے بارے میں اللہ کا بنایا ہوا جو منصوبہ ہے اس میں خاندان کی سربراہی کے لیے مرد کو متعین کیاگیا ہے اور اسی کے لحاظ سے اس کی تخلیق ہوئی ہے۔ مرد کی بناوٹ اور عورت کی بناوٹ میں جو حیاتیاتی اور نفسیاتی فرق ہے وہ اللہ کے اسی تخلیقی منصوبہ کی مطابقت میں ہے۔ اب اگر کچھ لوگ اللہ کے منصوبہ کے خلاف چلیں تو وہ صرف بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بنیں گے۔ کیوں کہ خدا کا کارخانہ تو مرد اور عورت کو بدستور اپنے منصوبہ کے مطابق بناتا رہے گا جس میں ’’قوامیت‘‘ کی صلاحیتیں مرد کو دی گئی ہوں گی اور ’’اطاعت‘‘ کی صلاحیتیں عورت کو۔ جب کہ ان کے معاشرتی استعمال میں خدائی تخلیق کی رعایت نہ ہورہی ہوگي۔ ایسے ہر تضاد کا نتیجہ اس دنیا میں صرف بگاڑ ہے۔
بہترین عورت وہ ہے جو اللہ کے تخلیقی منصوبہ میںاپنے کو شامل کرتے ہوئے مرد کی برتری تسلیم کرلے۔ اسی طرح بہترین مرد و ہ ہے جو اپنی برتر حيثيت کی بنا پر اس حقیقت کو بھول نہ جائے کہ خدا اس سے بھی زیادہ برتر ہے۔ خدا كي عدالت میں عورت مرد کا کوئی فرق نہیں، یہ فرق تمام تر صرف انتظام دنیا کے اعتبار سے ہے، نہ کہ آخرت میںتقسیم انعامات کے اعتبار سے۔ مرد کوچاہیے کہ وہ عورت کے حق میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا پورا اہتمام کرے۔ کوئی عورت اگر ایسی ہو جو مرد کی انتظامی بڑائی کو نہ مانے تو ایسا ہرگز نہ ہونا چاہیے کہ مرد کے اندر انتقام کا جذبہ ابھر آئے یا وہ الزمات لگا کر عورت کو بدنام کرے۔ کوئی بھی برتری کسی کو انصاف کی پابندی سے بری الذمہ نہیں کرتی۔ البتہ خصوصی حالات میں مرد کو یہ حق ہے کہ عورت کے اندر اگر وہ سرتابی دیکھے تو اس کی اصلاح کی کوشش کرے۔ یہ اصلاح اولاً سمجھانے بجھانے سے شروع ہوگی۔ پھر دباؤ ڈالنے کے لیے ترکِ کلام اور ترک ِتعلق کیا جاسکتا ہے،وغيره۔
دو آدمیوں میں جب باہمی اختلاف ہو تو دونوں کا ذہن ایک دوسرے کے بارے میں متاثر ذہن بن جاتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں خالص واقعاتی انداز سے سوچ نہیں پاتے۔ ایسی حالت میں معاملہ کو طے کرنے کی بہترین صورت یہ ہے کہ دونوں اپنے سوا کسی دوسرے کو حَکَم (arbitrator)بنانے پر راضی ہوجائیں۔ دوسرا شخص معاملہ سے ذاتی طورپر وابستہ نہ ہونے کی وجہ سے غیر متاثر ذہن کے تحت سوچے گا اور ایسے فیصلہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائے گا جو حقیقت واقعہ کے مطابق ہو۔