فَلِلَّهِ ٱلۡأٓخِرَةُ وَٱلۡأُولَىٰ
Rather, to Allah belongs the Hereafter and the first [life]
Making deities of stone and worshipping them, calling the angels ‘daughters of God,’ hoping to enter Paradise on the basis of recommendations—all these are non-serious beliefs. Non-serious beliefs are the product of minds that have no fear of God’s wrath. Fear of God puts a stop to pointless talk: the mind of one who has no such fear will become a babel of useless chatter.
لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →