۞وَلَهُۥ مَا سَكَنَ فِي ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ
And to Him belongs that which reposes by night and by day, and He is the Hearing, the Knowing
In this world communicating the Word of God is a task of some complexity. This is because God has ordained that the Truth be veiled in doubt, so that man may find reasons for rejecting it alongside arguments in support of its acceptance. The real test of man is that he should be able to tear down the veil of doubt and raise himself to the position of certainty. He should eschew doubt in all its guises and take a firm hold of the divine Truth. Believing without seeing is the real test of man. When reality is made visible, its acceptance has no value. Man denies the obvious truth. On obtaining power, he degrades others. One man makes another the victim of his tyranny. Why is this so? Does man wield absolute power in this world? Is there nobody here to stay his hand? Is there a combination of opposites in God’s regime, given that He seems to have filled man’s world with oppression and injustice and the rest of the world with mercy and meaningfulness? No, it is not so. God, who is the Lord of Heaven and earth, is also the Lord of that creature who toils during the day and rests at night. Just as God’s grace is given unstintingly to the universe, so also is it given to human beings. The difference is that for the rest of the world, His grace is fully in evidence right from the first day, whereas for the world of human beings, His grace will be fully shown on the Day of Judgement.
انسان کھلے ہوئے حق کا انکار کرتاہے۔ وہ طاقت پاکر دوسروں کو ذلیل کرتاہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کو اپنے ظلم کا نشانہ بناتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ کیا انسان کو اس دنیا میں مطلق اقتدار حاصل ہے۔ کیا یہاں اس کا کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔ کیا خدا کے یہاں تضاد ہے کہ اس نے بقیہ دنیا كو رحمت ومعنویت سے بھر رکھا ہے اور انسان کی دنیا کو ظلم اور بے انصافی سے۔ ایسا نہیں ہے۔ جو خدا زمین و آسمان کامالک ہے وہی خدا س مخلوق کا مالک بھی ہے جو دن کو متحرک ہوتی ہے اور راتوں کو قرار پکڑتی ہے۔ خدا جس طرح بقیہ کائنات کے لیے سراپا رحمت ہے اسی طرح وہ انسانوں کے لیے بھی سراپا رحمت ہے۔ فرق یہ ہے کہ بقیہ دنیا میں خدا کی رحمتوں کا ظہور اول دن سے ہے اور انسان کی دنیا میں اس کی رحمتوں کا کامل ظہور قیامت کے دن ہوگا۔
انسان ارادی مخلوق ہے اور اس سے ارادی عبادت مطلوب ہے۔ اسی سے یہ بات نکلتی ہے کہ جو لوگ اپنے ارادہ کا صحیح استعمال نہ کریں، وہ اس قابل نہیں کہ ان کو خدا کی رحمتوں میں حصہ دار بنایا جائے۔كیوں کہ انھوںنے اپنے مقصدِ تخلیق کو پورا نہ کیا۔ آزمائشی مدت پوری ہونے کے بعد سارے لوگ ایک نئی دنیا میں جمع كيے جائیں گے۔ اس دن خدا اسی طرح دنیا کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لے گا جس طرح آج وہ بقیہ کائنات کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔ اس روز خدا کے انصاف کا ترازو کھڑا ہوگا۔ اس دن وہ لوگ سرفراز ہوں گے جنھوںنے حقیقتِ واقعہ کا اعتراف کرکے اپنے کو خدائی اطاعت میں دے دیا۔ اور وہ لوگ گھاٹے میں رہیں گے جنھوں نے حقیقتِ واقعہ کا اعتراف نہیں کیا اور خدا کی دنیا میں سرکشی اور ہٹ دھرمی کے طریقے پر چلتے رہے۔
انسان جب بھی سرکشی کرتاہے کسی آسرے پر کرتا ہے۔ مگر جن چیزوں کے آسرے پر انسان سرکشی کرتا ہے ان کی اس کائنات میں کوئی حقیقت نہیں۔ یہاں ہر چيزبے زور ہے، زور والا صرف ایک خدا ہے۔ سب اس کے محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اس لیے فیصلہ کے دن وہی شخص بامراد ہوگا جس نے حقیقی سہارے کو اپنا سہارا بنایا ہوگا، جس نے حقیقی دین کو اپنی زندگی کے دین کی حیثیت سے اختیار کیاہوگا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →